مصباح الحق کی غلطی کی وجہ سے 2011ء کا سنہری موقع ضائع ہوگیا۔۔!! پاکستان ، بھارت سے ورلڈ کپ کیوں نہ جیت سکا؟ شاہد آفریدی سب کچھ سامنے لے آئے

کراچی (نیوز ڈیسک ) پاکستانی آل راؤنڈر اور سابق کرکٹ کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مضباح الحق نے بھارت کے خلاف ورلڈ کپ 2011ء کے سیمی فائنل میں جیتنے کا سنہری موقع ضائع کیا تھا ۔ اس میچ میں بھارت نے

29 رنز سے کامیابی حاصل کی اور یونس خان (32 گیندوں پر 13 رنز ) اور مصباح الحق (76 گیندوں پر 56 رنز) نے کیریز پر سیٹل ہونے میں کچھ زیادہ ہی وقت لیا تھا اور سٹرائیک کو روٹیٹ کرنے میں بھی ناکام رہے تھے ۔آفریدی نے گذشتہ ہفتے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ یہ ایک بہت اچھا موقع تھا جس سے فائدہ اٹھانے میں پاکستانی ٹیم محروم رہی۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ مصباح نے انتہائی سست رفتار اننگز کھیلی لیکن یہی مصباح کی نیچر ہے،وہ کریز پر کافی ٹائم گزارتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ میچ کو آخری اوورز تک لے کر جائے تاہم اس دن اسے زیادہ بہتر طریقے سے سٹرائیک روٹیٹ کرنی چاہیئے تھی .انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سابق آنجہانی کوچ باب وولمر کامیاب رہے کیونکہ وہ سیاست نہیں کرتے تھے ،انہیں ہر کھلاڑی کی خوبیوں اور خامیوں کا علم تھا اور جب بھی کوئی کھلاڑی پرفارم نہیں کرتا تھا تو وہ اس کی حمایت میں کھڑے ہوجاتے تھے ۔ 40 سالہ شاہد خان آفریدی جو بوم بوم کے نام سے مشہور ہیں ، نے 2009ء سے 2011ء کے درمیان قومی ٹیم کی کپتانی کے فرائض سرانجام دیئے تھے اور 2017ء میں انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر آباد کہا۔اسی میگا ایونٹ کے پاکستان کے سیمی فائنل کے حوالے سے متعدد بار بار سوالات اٹھائے جاتے رہے تھے، اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک کا اچانک ایکشن میں آنا اور اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا سیمی فائنل میں بھارت جانا مشکوک قرار دیا گیا تھا۔ بھارت نے اس کے بعد فائنل میں سری لنکا کو ہرایا تھا، اسی فائنل پر سابق سری لنکن سپورٹس منسٹر نے 2 ماہ قبل فکسنگ کے الزامات لگائے تھے اور تحقیقات شروع ہوتے ہی اچانک ختم کر دی گئی تھیں۔