جب خانہ کعبہ کو گرانے کی تیاری کی جا ئے گی تو خانہ کعبہ کی چابیاں حضوؐر کے پاس چلی جائیں گی ۔۔۔۔ پڑھیےہزاروں سال پہلے پیش گوئیوں پر مبنی ایک انتہائی ایمان افروز تحریر

اللہ حزقی ایل نبی کی زبانی کہتا ہے مجھ سے اپنی قربانیاں دور رکھو! کیونکہ تمہاری قربانیاں میرے نزدیک ناپسند ہیں اس لئے کہ وہ وقت قریب آ رہا ہے کہ جب وہ بات پوری ہو جائے گی جس کی نسبت ہمارے اللہ نے ہوسیع نبی کی زبانی یوں ارشاد کیا

ہے کہ بے شک میں غیر پسندیدہ قوم کو پسندیدہ قوم کہوں گا اور جیسا کہ حزقی ایل نبی کہتا ہے ’’عنقریب اللہ اپنی قوم کے ساتھ ایک ایسا نیا پیمان کرے گا جو کہ اس پیمان کی مانند نہیں ہے جو تمہارے باپ دادا کو عطا کیا تھا پس انہوں نے اس اقرار کو پورا نہیں کیا اور عنقریب ان سے ایک دل جو پتھر کا ہے لے لے گا اور ان کو نیا دل عطا کرے گا اور یہ سب اس لئے ہو گا کہ تم اس وقت خدا کی شریعت کے موافق نہیں چلتے ہو اور تمہارے پاس کنجی ہے اور تم نہیں کھولتے بلکہ یقیناً راستے کو ان لوگوں پر بند کرتے ہو جو اس پر چلتے ہیں‘‘۔(۶۷:۴:۷) یہ اس بات کی صاف بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا منصب بنی اسرائیل سے لے کر بالآخر بنی اسماعیل کے سپرد کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اسکے پورا ہونے کا وقت قریب آ گیا ہے اس کے ساتھ ہی حضرت عیسیٍٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ان سابق انبیاء کے کلام کا خود توریت سے حوالہ دیا ہے جنہوں نے اپنی قوم کو اللہ کے اس فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔ ہوسیع نبی کا ذکر اسلامی روایات میں کہیں نہیں تھا اور توریت کے بیان کے مطابق ان کا ظہور نویں صدی قبل مسیح میں ہوا تھا۔ مروجہ توریت میں ایک کتاب انہی کے نام سے منسوب ہے اور اس کے پہلے ہی باب میں یہ وعید ہے کہ اللہ اسرائیل کے گھرانے

کی سلطنت تمام کر دے گا۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰؑ نے حزقی ایل نبی کا جو قول نقل کیا ہے وہ توریت کی کتاب یرمیاہ میں یوں درج ہے’’دیکھ وہ دن آتے ہیں، خداوند کہتا ہے کہ میں اسرائیل کے گھرانے کے ساتھ نیا عہد باندھوں گا اس عہد کے موافق نہیں جو میں نے اس کے باپ اور دادوں سے کیا جس دن میں نے ان کی مدد کی تاکہ زمین مصر سے انہیں نکال لاؤں اور انہوں نے میرے اس عہد کو توڑا اور میں نے انہیں ترک کر دیا‘‘۔(یرمیاہ ۳۱:۳۱،۳۲) اوراس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اگلے فقرے کا مصداق کتاب حزقی ایل کی مندرجہ ذیل عبارت ہے: ’’اور میں تمہیں ایک نیا دل بخشوں گا اور ایک نئی روح تمہارے اندر ڈالوں گا اور تمہارے گوشت میں سے سنگین دل کو نکال ڈالوں گا‘‘۔(حزقی ایل ۳۶:۲۶) سینٹ برناباس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس تقریر کا جو محل بیان کیا ہے اس سے پتہ چلتا کہ آپؑ ہیکل میں ایک جگہ کھڑے تبلیغ و ارشاد میں مصروف تھے۔ عوام کا ایک مجمع آپ کے گرد جمع تھا، ہیکل کے متولی اور کاہن اور دوسرے اسرائیلی علماء دور کھڑے اس منظر کو حسد کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے میں سے ایک آدمی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تاکہ وہ مناظرے کی صورت پیدا کر کے آپؑ کو عوام کے سامنے نیچا دکھائے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے الٹا اس کو اپنے دلائل کے آگے دھر لیا

اس نے بحث کے دوران جان چھڑا کر واپس جانے کی کوشش کی تو آپؑ نے اسے روک لیا کہ اب پوری بات سن کر جاؤ بلکہوہیں کھڑے کھڑے آپؑ نے بلند آواز سے گفتگو کی تاکہ کاہنوں کا سردار بھی سب کچھ سن لے۔ یہ خطاب اس قدر اثرانگیز تھا کہ کاہن مبہوت کھڑے رہ گئے اور عوام کے دلوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے عقیدت اور بڑھ گئی۔ دشمن کے اپنے مورچے پر جا کر اسے جھوٹاثابت کر دینے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اپنے تبلیغی دورے پر نکل گئے۔ انجیل برناباس کے بیان کے مطابق اس دوران ایک سامری عورت سے گفتگو کرتے ہوئے عیسیٰ علیہ السلام نے ایک بار پھر بنی اسرائیل سے بہترین امت کا اعزاز چھن جانے بلکہ تحویل قبلہ کی بشارت دی۔ آپؑ نے فرمایا: ’’مگر تو مجھے سچا جان! بے شک ایک ایسا وقت آئے گا کہ اللہ اپنی رحمت اس وقت دوسرے شہر کے اندر دے گا او رتب اس کے لئے ہر جگہ میں حق کے ساتھ سجدہ کرنا ممکن ہو گا اور اللہ ہر جگہ میں اپنی رحمت سے حقیقی نماز کو قبول کرے گا‘‘۔ عورت نے جواب دیا ’’تحقیق ہم مَسِیّا کے منتظر ہیں پس جب وہ آئے گا ہمیں تعلیم دے گا‘‘۔ یسُوع نے جواب میں کہا ’’اے عورت! کیا تو جانتی ہے کہ مَسِیّا ضرور آئے گا؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’ہاں اے سید! اس وقت یسوع کا چہرہ چمک اٹھا اور اس نے کہا’’اے عورت! مجھے دکھائی دیتا ہے کہ تو ایمان والی ہے پس تو اب جان لے کہ تحقیق مَسِیّا پر ایمان لانے ہی سے اللہ کا ہر برگزیدہ نجات پائے گا اور اس حالت میں واجب ہے کہ تو مَسِیّا کو جانے‘‘۔عورت نے کہا ’’شاید تو ہی مَسِیّا ہے اے سید!‘‘ یسُوع نے جواب دیا ’’حق یہ ہے کہ میں اسرائیل ہی کے گھرانے کی طرف نجات کا نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں لیکن میرے بعد جلد ہی اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا مَسِیّا تمام دنیا کیلئے آئے گا وہ مَسِیّا کہ اللہ نے اس کی وجہ سے دنیا کو پیدا کیا ہے اور اس وقت تمام دنیا میں اللہ کو سجدہ کیا جائے گا اور رحمت حاصل کی جائے گی یہاں تک کہ جوبلی کا سال جو اس وقت ہر سو برس پر آتا ہے مَسِیّا اس کو ہر سال ایک جگہ (دن) میں مقرر کر دے گا‘‘۔ (۸۲:۹-۱۸) اس بشارت میں پہلی بات تو یہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ عنقریب بیت المقدس کی بجائے ایک اور شہر کو قبلہ عالم قرار دے گا۔ اس عورت نے دراصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال ہی یہ کیا تھا کہ بنی اسرائیل ہیکل سلیمانی کے سوا کسی اور جگہ پر سجدہ کیوں جائز نہیں سمجھتے۔ اس پر آپؑ نے جواب دیا کہ اب تک اللہ کا حکم یہی تھا لیکن یہ قبلہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گا ۔