بریکنگ نیوز: سعودی حکومت کی جانب سے عمرہ زائرین کو مایوس کُن خبر سُنا دی گئی

مکہ مکرمہ(ویب ڈیسک) سعودی حکومت کی جانب سے 4 اکتوبر سے عمرہ کی اجازت دے دی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں سعودی عرب میں مقیم تارکین وطن اور مقامی افراد کو حج کی اجازت ہو گی۔عمرہ کی اجازت ملنے کے بعد زائرین بہت خوش ہیں تاہم حرمین شریفین کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ زائرین عمرہ

ادا کر سکیں گے مگر انہیں کعبہ اور حجر اسود کے قریب جانے اور چھُونے کی اجازت ہرگز نہیں ہو گی۔اُردو نیوز کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ طواف، کعبہ کے گرد نصب باڑ کے باہر ہوگا۔کورونا وائرس کی روک تھام اور زائرین کی حفاظت کے لیے حجر اسود کا بوسہ لینا یا کعبے کو چھونا منع ہے۔تمام زائرین کو سماجی فاصلے کے علاوہ طواف کے دوران زمین پر نشانات پر چلنے کی پابندی کروائی جائے گی۔طواف اور سعی کے دوران سماجی فاصلہ رکھنے کی پابندی کروانے کے لیے انتظامیہ نے اہلکار تعینات کیے ہیں۔تمام زائرین کے جسم کا درجہ حرارت لیا جائے گا، طبی ٹیم ہر وقت موجود رہے گی اور زائرین کی نگرانی پر مامور ہوگی۔’طواف اور سعی کو منظم کرنے کے علاوہ زائرین کی طرف سے وقت کی پابندی کے لیے ٹیم موجود رہے گی۔دوسری جانب وزیر حج و عمرہ نے کہا کہ 18 سے 65 برس تک کے افراد کو عمرہ اجازت نامے جاری ہوں گے۔ اس کے لئے کوئی فیس نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد الحرام میں جانے کے لیے اعتمرنا نامی ایپ پر بکنگ ضروری ہوگی۔اس کے بغیر کسی بھی شخص کو حرم شریف میں جانے نہیں دیا جائے گا۔ اعتمرنا ایپ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے عمرہ زائر رہائش کا بھی انتخاب کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت صحت نے ایسے ممالک کی فہرست جاری کردی ہے جن کے باشندے عمرہ ادا کرنے کے لیے آ سکیں گے۔واضح رہے کہ پہلے مرحلے میں صرف یومیہ چھ ہزار افراد کو عمرہ کی اجازت ہو گی۔ ان افراد کو ایک ایک ہزار کے گروپ میں تقسیم کر کے عمرہ ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ہر گروپ کو تین گھنٹے کے اندر اندر مناسکِ عمرہ مکمل کرنے ہوں گے، جس کے بعد دوسرے گروپ کی باری آئے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں