شارجہ کے فرمانروا نے اماراتی خاتون کی شکایت پرعلاقے کے تمام کنواروں کے لیے کیاحکم جاری کر دیا؟ جان کر آپ کی آنکھیں بھی پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی

شارجہ(ویب ڈیسک) شارجہ میں ایک اماراتی خاتون کی شکایت پر شارجہ کے حکمران نے اہم فیصلہ لیتے ہوئے حکم سُنا دیا کہ خاتون کے آس پاس کے گھروں میں مقیم کنواروں اوربیوی بچوں کے بغیر رہنے والے تمام تارکین کو آج کے روزبے دخل کردیا جائے۔ جس کے بعد شارجہ میونسپلٹی اور پولیس کی جانب سے مشترکہ

انسپکشن کرتے ہوئے آس پاس کے گھروں سے بغیر فیملی کے مقیم افراد کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق شارجہ کے علاقے القادسیہ میں مقیم اماراتی خاتون نے ٹی اور ریڈیو کے پروگرام میں شکایت لگائی تھی کہ وہ ایک مضافاتی علاقے میں اپنے بچوں کے ہمراہ مقیم ہے۔ اس کے آس پاس کے گھروں میں سینکڑوں غیر ملکی بغیر گھر والوں کے مقیم ہیں۔ جو اکثر بے ہودہ حرکات میں ملوث پائے گئے ہیں ، ان تارکین کی جانب سے خواتین کو عجیب نظروں سے گھورا جاتا ہے اور نازیبا انداز اپنائے جاتے ہیں۔جس کے باعث محلے کی دیگر خواتین اور ان کے بچے بہت پریشان ہیں۔ یہ معاملہ شارجہ کے حکمران شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی کے علم میں آیا تو انہوں نے فوری طور پر شارجہ میونسپلٹی اور پولیس کو حکم دیا کہ خوف و ہراس کی شکار خاتون کی شکایت دُور کرنے کے لیے اس کے آس پاس کی عمارتوں میں مقیم کنوارے اور بغیر فیملیوں کے مقام افراد کو فوری طور پر ان گھروں سے بے دخل کر دیا جائے۔شارجہ سٹی میونسپلٹی کے ڈائریکٹر جنرل ثابت الطریفی نے بتایا کہ میونسپلٹی کے انسپکٹرز شارجہ کے فرمانروا کے حکم پر ایکشن میں آ گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے اس علاقے کے ان گھروں کو پہلے بھی وارننگ دی گئی تھی جن میں کنوارے افراد بڑی گنتی میں مقیم ہیں۔ ان کنواروں کو گھروں اور ولاز سے باہر نکالنے کی خاطر سول ڈیفنس اور پولیس کے ساتھ مل کر علاقے کی گلیوں کی انسپکشن کی جائے گی جس دوران بغیر بیوی بچوں کے مقیم افرادکو یہاں سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ دو سال قبل القادسیہ میں گھروں میں درجنوں افراد کے مقیم ہونے کا انکشاف ہوا تھا، جب ایک ولا میں آگ لگنے سے وہاں موجود 64افراد جھُلس گئے تھے جبکہ ایک خاتون اپنے بچے سمیت جان بحق ہو گئی تھی۔