اقوام متحدہ میں عمران خان نے کشمیر کے ساتھ فلسطین کا مسئلہ بھی اٹھایالیکن جب فلسطینی صدر کی باری آئی تو انہوں نے کس پر الزامات کی بوچھاڑ کردی؟ حیرت کے جھٹکے کے لیے تیار ہو جائیں

جنیوا(ویب ڈیسک ) فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی پرافسوس ہے ،اس سے فلسطینی عوام کو دھچکا لگا ہے اور وہ ناخوش ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں سائیڈ لائن لگایا جا رہا ہے، فلسطینی عوام اپنا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔

نجی نیوز چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے صدر محمود عباس نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے خلیجی ممالک کی عالمی کانفرنس کے انعقاد کا مطالبہ کیا ۔ان کاکہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں عالمی قوانین کے تحت حقیقی امن کے قیام کے لیے فلطسین سے اسرائیل کا ناجائز قبضہ ختم کرانا اور 1967 کی حیثیت کو بحال کرنا ضروری ہوگا۔فلسطینی صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کوئی تبدیلی فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر پائیدار نہیں ہوگی اس کے لیے میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اگلے سال خلیجی ممالک کی عالمی کانفرنس مدعو کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔دوسری طرف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیر اعظم عمران خان کے خطاب پر معروف تجزیہ کار اور سینئر صحافی کامران خان بھی میدان میں آگئے ہیں اور ایسی بات کہہ دی ہے اپوزیشن جماعتیں غصے سے لال پیلی ہو جائیں گی۔تفصیلات کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹس میں کامران خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کا اقوام متحدہ سے کلیدی مطالبہ غریب ملکوں سےبدعنوانی کے زریعے لوٹی ہوئی دولت، دنیا میں ٹیکس چوروں کی جنتوں سے ان ملکوں کو لوٹائی جاۓ جہاں سے یہ لوٹی گئی، یاد رہے پاکستان کے چوٹی کے سیاستدانوں کے اربوں ڈالرز کے غیر ممالک میں اثاثوں کا انکشاف ہو چکا ہے۔کامران خان نے اپنے دوسرے ٹویٹ میں کہا کہ زبردست عمران خان ویری گڈ ،پاکستان کے وزیر اعظم دنیا سے دو ٹوک بہادرانہ مطالبہ کررہے ہیں ،پوری دنیا، بھارت کے حکام وہاں کے لیڈرز کے خلاف کشمیریوں پر بدترین مظالم اور انسانی حقوق کے خلاف جرائم کے خلاف عالمی قوانین حرکت میں لائے، ان بھارتیوں کو گرفتار کیا جائے، ان پر عالمی عدالت میں مقدمات چلیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں