’’2002 میں ہمیں اس ملک نے خطرناک اور تباہ کُن ہتھیار بنانے پر مجبور کیا۔۔‘‘ روسی صدر پیوٹن کے انکشاف نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا

ماسکو(ویب ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ امریکا نے ہمیں اپنے میزائل پروگرام کو ترقی دینے پر مجبور کیا ہے، نئے روس کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب ہمارے پاس جدید ترین ہتھیار موجود ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ

امریکا نے اینٹی بیلسٹک میزائل (اے بی ایم) معاہدے سے نکل کر ہمیں الٹرا سپر سونک میزائل پروگرام کو ترقی دینے پر مجبور کر دیا ہے۔ صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ سنہ 2002 میں امریکا کی جانب سے اینٹی بیلسٹک میزائل ٹریٹی کے خاتمے کے بعد ہمارے پاس ایٹمی ہتھیاروں کے حامل الٹرا سپر سونک میزائلوں کو ترقی دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ نئے روس کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب ہمارے پاس جدید ترین ہتھیار موجود ہیں جو اپنی طاقت و توانائی، رفتار اور نشانہ بنانے کی صلاحیت کے حوالے سے بے مثال ہیں۔ خیال رہے کہ روس نے امریکا کی میزائل شیلڈ کے جواب میں سنہ 2019 تک الٹرا سپر سونک میزائل سسٹم کنژال اور بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل آونگارڈ کی تیاری کا اعلان کیا تھا۔ روس نے مذکورہ دونوں خطرناک اور تباہ کن ہتھیاروں کی تیاری مقررہ وقت پہلے ہی مکمل کر لی تھی اور سن 2018 میں ان کی رونمائی کر دی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں