چودھری شجاعت نے نام نہاد شریفوں کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) چودھری شجاعت کا نواز شریف کے حوالے سے اہم بیان۔ مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کا اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں نواز شریف کے خطاب پر رد عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ نواز شریف نے ہر بار اقتدار میں آنے کے بعد فوج سے لڑائی

ور اداروں کو کمزور کیا ہے، ملک کی بہتری کے لیے فیصلے عوام نے کرنے ہیں نواز شریف نے نہیں، اب عوام دوبارہ بددیانتی کے فیصلوں کو قطعاً قبول نہیں کرے گی۔ چودھری شجاعت حسین کا اپنے ردعمل میں کہنا تھا کہ نواز شریف کی جانب سے تقریر میں انتخابات کو ہائی جیک کرنے اور بد دیانتی کا جو الزام لگایا گیا ہے وہ خود بھی وزیراعظم بننے کے لیے یہی کام کر چکے ہیں جس پر وہ آج لندن میں بیٹھ کر تنقید کر رہے ہیں، نواز شریف کو نیب پر تنقید کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے تھا کہ ان کی نامزدگی کسی اور نے نہیں بلکہ انہوں نے خود کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 کے عام انتخابات میں نواز شریف نے الیکشن کا رزلٹ دن بارہ بجے ہی سنا دیا تھا جبکہ الیکشن کمیشن نے رزلٹ کا شام کو اعلان کرنا تھا، اس وقت کے انتخابات کے انعقاد سے قبل نواز شریف صاحب خود الیکشن کمیشن سے فوج کو الیکشن کی ذمہ داری دینے کی درخواست کی تھی، اس وقت ان کے لیے فوج اچھی تھی جو آج بری بن گئی ہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے اپنے سخت ردعمل میں کہا کہ نواز شریف کی جانب سے اپنی تقریر میں یہ کہا گیا ہے کہ ملک کو ایک لیبارٹری بنا دیا گیا ہے،لیکن وہ یہ چیز کیوں بھول رہے ہیں کہ اس لیبارٹری کی بنیاد خود انہوں نے نہیں رکھی تھی، نواز شریف نے اپنی تقریر میں ریگنگ کا حوالہ تو دیا لیکن اپنے حق میں کی گئی دھاندلی کو وہ بھول گئے ہیں، جو ان کے سیاسی کردار کا دہرا معیار ہے۔ق لیگ کے صدر کا کہنا تھا کہ اے پی سی میں نواز شریف کی کی گئی تقریر جن مشیروں نے لکھی اور کروائی ہے انہوں نے ایک بار پھر نواز شریف کے پاؤں پر کلہاڑی مار دی ہے، نواز شریف کی تقریر سے ایسا لگ رہا تھا کہ ان کی تقریر کا مفہوم سیاستدانوں کے لیے نہیں بلکہ فوج کے خلاف ہے، ان کی تقریر واضح طور پر سیاست دانوں کے نہیں بلکہ فوج کے خلاف تھی، جس میں انہوں نے سیاستدانوں کی بجائے فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا۔