پاک فوج کا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ۔۔!! نواز شریف کے الزامات ، عسکری قیادت بھی میدان میں آگئی، دوٹوک اعلان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) عسکری قیادت نے فوج کو تمام سیاسی معاملات سے دور رکھنے پر اصرار کیا ہے۔عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ فوج کا کسی بھی سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں۔تفصیلات کے مطابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی پارلیمانی رہنماؤں سے گفتگو ہوئی ہے۔

عسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان پر تیز اور موثر عمل درآمد پر زور دیا ہے۔گلگت بلتستان کے انتظامی امور اور قومی سلامتی سے متعلق بات چیت کی گئی ہے۔عسکری قیادت نے فوج کو تمام سیاسی معاملات سے دور رکھنے پر اصرار کیا۔عسکری قیادت نے کہا کہ فوج کا کسی بھی سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں۔ضرورت پڑنے پر فوج ہمیشہ سول انتظامیہ کی مدد کرتی رہے گی۔عسکری قیادت نے فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھنے پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے سیاستدانوں کے بجائے فوج کو ہدف بنایا۔،نواز شریف سیاستداںوں کے نہیں فوج کے خلاف ہیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف ہر دفعہ اقتدار ملنے کے بعد فوج سے لڑائی اور اداروں کو کمزور کیا۔نواز شریف کو بطور وزیراعظم قومی استحکام اور ملکی سلامتی پیدا کرنا چاہئیے تھا جو انہوں نے کیا۔جن مشیروں نے تقریر لکھی انہوں نے ایک مرتبہ پھر نواز شریف کے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔نواز شریف نے سیاستدانوں کے نہیں فوج کے خلاف ہیں۔انہوں نے اپنی تقریر میں رگنگ کا حوالہ دیا۔نواز شریف اپنے حق میں کی گئی رگنگ بھول گئے۔نواز شریف نے 1990 کے الیکشن میں دن بارہ بجے خود ہی رزلٹ کا اعلان کر دیا ہے جب کہ الیکشن کمیشن نے شام کو اعلان کرنا تھا۔اس وقت نواز شریف نے ہی الیکشن کمیشن کو درخواست کی تھی کہ فوج الیکشن کی ذمہ داری لے۔اس وقت فوج اچھی تھی اب بری ہو گئی ہے۔چوہدری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ نواز شریف کے مطابق ملک کو لیبارٹری بنا دیا گیا ہے جب کہ اس لیبارٹری کی بنیاد انہوں نے خود رکھی تھی۔نواز شریف نے اداروں پر انتخابات کو ہائی جیک کر ے اور بدنیتی کا الزام لگایا،یہی کام وہ خود وزیراعظم بننے کے لیے کر چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چئیرمین نیب پر بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہئیے تھا کہ ان کی نامزدگی خود نواز شریف نے ہی کی تجھی۔فیصلے نواز شریف نے نہیں بلکہ عوام نے کرنے ہیں اور اب عوام دوبارہ بد نیتی کے فیصلوں کو قبول نہیں کرے گی۔واضح رہے کہ گذشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے اے پی سے خطاب کیا ۔ اے پی سی پر نواز شریف کا خطاب دیکھنے اور سننے کیلئے بڑی سکرین کا اہتمام کیا گیا۔ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی جدوجہد عمران خان کے خلاف نہیں ان کو اقتدار میں لانے والوں کے خلاف ہے ۔ نواز شریف کی تقریر سے سیاسی میدان میں ایک ہلچل مچ گئی ہے۔