باجی تسی نال نال نمی نمی ڈھولکی وجاؤ۔۔۔۔۔ سنتا سنگھ جب پہلی بار سکول گیا تو کیا دلچسپ واقعہ پیش آیا ؟ موجودہ ملکی وسیاست حالات چند لطیفوں کی مدد سے بیان کردیے گئے

لاہور (ویب ڈیسک) اے پی سی سے یاد آیا اپنا سنتا سنگھ جب پہلی بار سکول گیا تو اس کی ٹیچر نے کہا چلو اے بی سی سناؤ تو وہ بولا باجی تسی نال نال نمی نمی ڈھولکی وجاؤ۔ اب اے پی سی ہو رہی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ

وزراء بیانات کی نمی نمی ڈھولکی نہ بچائیں۔نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ایک طرف و زراء کا ماتم ہے تو دوسری طرف مریم بی بی شہنائیاں بجا رہی ہیں اور بیک گراؤنڈ میں گانا چل رہا ہے”تیرے آن تے کھڑاگ بڑے ہوں گے مزے تے ماہیا ہن آؤن گے“۔ پھر میاں صاحب کے ٹوئٹ نے ایسا چن چڑھایا کہ اے پی سی کو چار چاند لگ گئے لیکن میں کہئے دیتا ہوں میرا وجدان کہتا ہے کہ شاید نواز شریف اے پی سی سے خطاب نہ کریں۔ کچھ تِل ایسے ہوتے ہیں جن میں تیل نہیں ہوتا اور یہ تَل کے کھائے جانے والے ہوتے ہیں۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اے پی سی میں ورچوئل منہ دکھائی کرائیں۔ وہ پی سی میں ورچوئل منہ دکھائی کرائیں اور اگر وہ اپنے ضامنوں سے خوش نہیں تو ضرور خطاب کرینگے۔ شہباز گل درست کہتے ہیں کہ ایک مفرور ملزم کیسے کانفرنس سے خطاب کر سکتا ہے لیکن میرا ان سے یہی سوال ہے کہ ایک مفرور ملزم ڈولے میں بیٹھ کر ڈھول تماشے کے ساتھ ملک سے باہر کیسے جا سکتا ہے؟۔ میرا خیال ہے کہ شہتیریوں کو جھپے نہیں ڈالنے چاہئیں یہ بڑے کرم کے فیصلے ہوتے ہیں اور بڑے نصیب کی بات ہوتی ہے۔میری بات وہ لکھ لیں چاہے رومن اردو میں لکھ لیں کہ نواز شریف نہ پی ٹی آئی حکومت سے اجازت لے کر گئے اور نہ اس سے اجازت لیکر واپس آئیں گے۔ رہی بات کہ ایک سزا یافتہ شخص قومی سیاست میں کیسے حصہ لے

سکتا ہے تو شکر کریں ابھی انصاف کی کچہری میں پی ٹی آئی کی ہٹی قائم ہے۔ ہوا جس دن الٹی چلی تو سب کو ایسی ٹکٹکی لگے گی کہ رہے رب دا ناں۔ سنتا سنگھ بس ڈرائیور سے کسی نے پوچھا آپ کتنی دیر بس میں رہتے ہو۔وہ بولا 24گھنٹے۔ پوچھنے والے نے کہا وہ کیسے سنتا سنگھ بولا آٹھ گھنٹے بس میں 16گھنٹے بیوی کے بس میں، مجھے رحم آتا پاکستان کے بیس کروڑ سنتو بنتوں پر ساری زندگی ان حکمرانوں کے بس میں رہتے ہیں اور مجال سنتا سنگھ کی طرح اُف بھی کر جائیں۔ بھوک ننگ غربت مایوسی کے زیور پہنے یہ سنتے بنتے کبھی پی ٹی آئی کے دربار پر دھمال ڈالتے ہیں،کبھی ن لیگ کے مزار پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں،کبھی پیپلزپارٹی کے مرقد پر جھومر ڈالتے ہیں، یہ مرتے رہتے ہیں اور ان کے سیاسی پیر دولت بچانے اور اپنی کھٹیا کھڑی کرنے کے چکر میں اے پی سی اور کبھی لانگ مارچ اور کبھی دھرنے دیتے ہیں۔ بزرگوار سراج الحق نے بہت درست فرمایا کہ وہ کسی کے سیاسی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے اے پی سی میں شرکت نہیں کرینگے۔ بس ان سے درخواست ہے کہ وہ اپنی بات کو یاد رکھیں ایسا نہ ہو کہ میری آنکھوں میں ان کے اس بیان سے عقیدت کے جو آنسو آ ئیں اور وہ قبر کی مٹی سوکھنے سے پہلے یوٹرن لے لیں یوٹرن بس میرے کیپٹن کو ہی زیب دیتا ہے۔موٹر وے سانحے کے بعد میری دعا تھی کہ اللہ کرے اس واقعہ میں کوئی بڑا،کوئی ڈاڈا،کوئی وڈیرہ ملوث نہ ہو، اگر ایسا ہوا تو اس

سے چوم چاٹ کر معافی مانگنی پڑے گی۔ گواہ مکر جائیں گے۔ انصاف کن وٹ لے گا۔ اسے تزک و اختتام کے ساتھ ملک سے باہر بھیج دیا جائے گا یا بری کر دیا جائے گا۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ مجرم عابد علی بھی ”بروٹس یوٹو“ کا ثابت ہو گا۔ عابد نہ ہوا شیر پنجاب خادم اعلیٰ ہوا کہ پوری پنجاب ریاست سارا دن انہیں تلاش کرتی رہے اور وہ اگلے دن جنج ٹر پئی واجیاں نال گاتے اپنی ضمانت کرا لیں، نئے سی سی پی او کے آنے کے بعد ہمیں شک تھا کہ پنجاب بھر کے تمام جرائم پیشہ ”میری توبہ توبہ میری توبہ توبہ کرتے“ دہائیاں دیں گے کہ خدا کے واسطے ہمیں گرفتار کر لو ورنہ عمر شیخ ناراض ہو جائیں گے۔ لیکن یہ عابد ہی نہیں پکڑا جا رہا۔ میرا یقین ہے کہ ہمارے عمر شیخ صاحب اسے خود ایک دن جھپا ڈال کر پکڑ لیں اور کہیں گے، ایک دو تین چار پکڑ لیا پکڑ لیا۔ یہ وقت ضرور آئے گا اور قیامت سے پہلے آئے گا۔ میری ان سے تمام تر عقیدت کے باوجود ان کے اس بیان نے ڈرا دیا ہے کہ جلد پنجاب کی پولیس نیو یارک کی پولیس جیسی ہو جائے گی۔ ہمارا تو رنگ ویسے بھی جامن آمیزسیمی فالسائی رنگت کا ہے اور نیو یارک کی پولیس کالوں کو بے دردی سے مارنے میں بہت مشہور ہے۔ خاتون معرووف ڈینٹسٹ ڈاکٹر بنتا سنگھ سے داڑہ نکلوا کر ریسیپشن پر آئی۔ نرس نے کہا میڈم چکر تو نہیں آ رہے۔ ڈاکٹر بنتا جلدی سے بولے چکر تے میرا بل ویکھ کے آن گے۔ خیرسے شیخ عمر صاحب نے ابھی ہماری داڑہ نہیں نکالی تو ہمارا یہ حال ہے بل دیکھ کر کیا بنے گا۔ ہمارے سابق خادم اعلیٰ چھوٹے بھیا نے ایک بار کہا تھا کہ وہ سب ٹھیک کر سکتے ہیں لیکن پٹواریوں اور پولیس کو ٹھیک نہیں کر سکتے، دیکھتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے پاس کونسی گیدڑ سنگھی ہے۔ جو وہ سی سی پی او کے ذریعے پولیس کو سدھا کر دینگے۔ اگر وہ صرف تھانوں میں تھانیداروں کے ٹرنکوں پر لگی زنجیروں اور ان کے تالوں کو ہی بدلوا دیں تو امن چل جھپیاں جھپیاں گاتا پھرے گا۔