یہ خصوصی رپورٹ پڑھ کر اپنی رائے دیں اور اس مطالبے کا حصہ بن جائیں

لاہور (شیر سلطان ملک ) انتہائی مایوس کن صورتحال ہے ، سانحہ موٹروے کا مرکزی ملزم بلکہ مجرم لاہور کے گرد ونواح میں ٹہلتا پھر رہا ہے اور ہماری پنجاب پولیس کے شیر جوان اسے پکڑنے میں ناکام ہیں ، کل کی خبر تھی کہ ملزم عابد پولیس سے 10 فٹ کے فاصلے پر ہونے

کے باوجود بھاگ گیا ، کون عزت کرے گا ایسی پولیس کی، اس ناکامی پر انہیں سیلوٹ کیا جائے یا ہیرو کیا خطاب دیا جائے ۔ دو روز پہلے تک ہمارے کرائم رپورٹرز کا خیال تھا کہ ملزم عابد پولیس کو 10 دن کا گیپ دے گیا ہے جو اس کے حق میں جارہا ہے اور وہ اب کہیں سے کہیں پہنچ چکا ہو گا ، جتنا اس گیپ میں اضافہ ہوتا جائے گا اتنا ہی ملزم عابد کی گرفتاری مشکل سے مشکل تر ہوتی جائے گی ، لیکن اب انہی کرائم رپورٹر کا خیال ہے کہ سر عام سالی سے ملاقات کرنے پارک میں پہنچ جانے والا ملزم عابد بے خوف و خطر لاہور قصور اور ننکانہ میں پھر رہا ہے ، مگر پنجاب پولیس ، سی ٹی ڈی ، ایلیٹ فورس اور ایس پی یو کے کمانڈوز اور موبائلز اعلیٰ افسران اور وزیروں کو تحفظ اور پروٹو کول فراہم کرنےمیں ادھر ادھر دوڑتی پھر رہی ہیں ، ہمارے سی سی پی او لاہور نے تو بیرون ملک سے تفتیشی طریقہ کار اور مجرموں کو پکڑنے کے کورس کر رکھے ہیں انہیں اتنا بھی خیال نہ آیا کہ ملزم کے لاہور قصور اور ننکانہ و دیگر شہروں میں موجود رشتہ داروں کے گھروں کے باہر خفیہ اہلکار یا سادہ کپڑوں میں ملبوس اہکار تعینات کردیے جائیں ، اگر ننکانہ میں جس پارک میں ملزم عابد اپنی سالی کو ملا اور وہاں کے شہری کے مطلع کرنے پو پولیس معمول کے مطابق دیر سے پہنچی ۔ اگر ایسا نہ ہوتا اور پولیس وہاں موجود ہوتی یا

بروقت پہنچ جاتی اور پھرتی کا مظاہرہ کرتی یا ایلیٹ فورس کے کمانڈوز وہاں کہیں موجود ہوتے تو کیا عابد کا بچ نکلنا ممکن ہوتا ؟ ملزم عابد کو گرفتار کرنے کے حوالے سے پولیس پہلے دن سے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کررہی ہے ، کسی بھی چھوٹی موٹی کارروائی سے پہلے ایک پریس کانفرنس جھاڑ دی جاتی ہے ، پسند پر تعینات ہونے والے سی سی پی او صاحب کسی وزیر کے پہلو میں بیٹھ کر ماہرانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں اور پھرتمام تفصیلات ٹی وی چینلز کے ذریعے لیک کر دی جاتی ہیں ، فلاں کو بھی پکڑ لیا ، فلاں بھی ہاتھ آگیا ، بس اب ملزم سے چند قدموں کی دوری ہے ، حماقت کی ایک حد ہوتی ہے جو حکومت پنجاب اور پنجاب پولیس دونوں پار کر چکے ہیں ، قوم کو بیوقوف بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے اور ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اس سنگین نوعیت کے کیس کی تحقیقات پاک فوج اور خفیہ ایجنسی کے حوالے کی جائے ، چند گھنٹوں میں ملزم گرفتار ہو جائے گا ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو لاہور پولیس کی موجودہ سیاسی قیادت کی موجودگی میں ملزم عابد اپنے اس انجام سے بچ نکلے گا جس پر پوری قوم اسکو پہنچتے دیکھنا چاہتی ہے ۔ نوٹ : پاکستانی قوم بالخصوص زندہ دلان لاہور یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ پنجاب پولیس میں بد کلامی کے حوالے سے مشہور عمر شیخ کو وزیراعظم عمران خان نے آخر کیا دیکھ کر سی سی پی او لاہور جیسا اہم عہدہ سونپ دیا ہے ؟؟؟(ش س م)