لاہور کی بیٹی اور گجرانوالہ کے پہلوانوں کی بہو ” چراغ نور ” نے اپنے بچوں کی زندگی پر اپنی عزت کیسے نچھاور کر دی ؟ ایک خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نو اگست 2020ء کی رات کو لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے موٹروے پر ایک کار سوار خاتون کو جو حادثہ یا سانحہ پیش آیا اس پر پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک کے مہذب ، باغیرت اور انسانیت دوست ہر انسان کی آنکھ میں آنسو نظر آ رہے ہیں

نامور کالم نگار ڈاکٹر ظہور احمد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور زبان پر درد و الم کے الفاظ رواں ہیں میں خود کو بھی ان کے ساتھ شریک پا رہا ہوں، مگر میری سوچ کچھ مختلف ہے، میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر وہ بے غیرت اور ہوس پرست درندے تاریک رات میں اپنے منہ کالے کر کے اور کار سمیت سب کچھ جلا کر خاکستر کر کے بھاگ جاتے تو دو سطر کی ایک خبر بھی شاید نہ بن سکتی! مگر یہ تو ایک تہلکہ مچ گیا ہے جس پر پاکستان سمیت پوری دنیا کے انسان آنسو بھی انڈیل رہے ہیں اور درد و الم سے لبریز آہیں بھی بھر رہے ہیں!یہ خاتون اصل میں لاہور کی بہادر بیٹی ہے اور گوجرانوالے کے پہلوانوں کی بہو ہے، مگر یہ بیٹی تو ہم سب کی ہے! ہم سب کا فرض یہ ہے کہ ہم اس عظیم خاتون کے فاتحانہ معرکہ کو دیکھیں اور اسکی قدر کریں، میں تو اپنی اس عظیم اور بہادر بیٹی سے یہ کہوں گا بلکہ اسے نصیحت کروں گا کہ وہ بے شک پردے میں رہے لیکن ہر قسم کے احساس کمتری کو اسی طرح ٹھکرا دے جس طرح وہ ان ہوس پرست درندوں کو اپنے بے مثال حوصلے اور درواندیشی، بروقت فیصلہ کن اقدامات کر کے ٹھوکر مار کے فاتحانہ معرکہ سر کر کے آئی ہے! وہ شکست کھا کر بے بس نہیں ہوئی! ہم سب کو اس حوصلہ مند اور بہادر بیٹی کو شاباش دینا چاہئے ، زبانی یہ اعلان ہی سہی کہ ہم اس بہادر، حوصلہ مند اور اس فاتحانہ معرکہ میں اپنے ہوش و حواس قائم رکھتے ہوئے تاریک رات میں اور سنسان موٹروے پر بھی گھبرانے یا حوصلہ ہارنے کے بجائے آخری وقت تک مقابلہ پر ڈٹی رہی ہے، اس نے اپنی زندگی بھی بچائی ہے اور اپنے معصوم بچوں کی جانیں بھی بچا لیں ، ہوس پرستی کے خوگر تو میدان سے بھاگ نکلے ہیں مگر ہماری یہ بہادر بیٹی ہولناک تاریکی اور سنسان تاریک سمندر کی طرح لہلہاتی ہوئی سڑک پر بھی اپنے مجرموں کو پکڑنے ، ناکامی اور نامرادی کے شرمناک انجام تک پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے! میں اپنی اس بہادر بیٹی کا اصل نام ظاہر کرنے کے بجائے اس کیلئے ایک نیا نام تجویز کرتا ہوں اور یہ نام ہو گا ’’چراغ نور‘‘ اور اس ’’چراغ نور‘‘ کی یاد کو زندہ جاوید بنانے کیلئے ’’چراغ نور‘‘ کے عنوان سے خواتین کیلئے ایک سب سے اعلیٰ بہادری کا اعزاز (جو ستارۂ بسالت سے کسی طرح کم نہ ہو۔ شروع کیا جائے اور سب سے پہلے یہ اعزاز لاہور اور گوجرانوالہ کو دیا جائے کیونکہ یہ بہادر اور حوصلہ مند بیٹی اہل لاہور کی بیٹی اور اہل گوجرانوالہ کی بہو ہے! میں اپنی اس بہادر بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتا ہوں اور جب تک زندہ ہوں اپنی اس بہادر اور حوصلہ مند بیٹی کے اس فاتحانہ معرکہ سے دنیا کو روشناس بھی کراتا رہوں گا، میری یہ بہادر اور حوصلہ مند بیٹی ’’چراغ نور‘‘ زندہ باد!