انصار عباسی نے اندر کی خبر دے دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) خواتین اور بچوں کے ساتھ شرمناک واقعات میں ملوث افراد، جن کے کیسز میں سنگین پہلو زیادہ ہوتا ہو، کو تختہ دار کی سزا دینے، اس مقصد کیلئے خصوصی عدالتیں بنانے، اور ایسے واقعات کو نا قابل مصالحت بنانے کیلئے حکومت موجودہ قوانین میں تبدیلیاں لانے پر غور کر رہی ہے۔

اس نئی قانون سازی اور تجاویز کی تیاری میں مصروف کابینہ کے ایک اہم رکن نے دی نیوز کو بتایا کہ کیمیائی طور پر نا کارہ بنانے کی تجویز بھی موجود ہے لیکن اعتراض یہ ہے کہ اس عمل کے باوجود مجرم کی مجرمانہ ذہنیت کا علاج نہیں ہوگا، کیونکہ وہ کسی اور طرح سے لوگوں کو نقصان پہنچانے کیلئے آزاد پھر رہا ہوگا۔کہا جاتا ہے کہ ان تجاویز میں سر عام سزا کا آپشن شامل نہیں ہے بلکہ یہ تجویز دی جا سکتی ہے کہ قید میں مجرموں کو تختہ دار پر چڑھانے کا عمل ٹیلی ویژن پر دکھانے کا خیال معاشرے میں جرائم کے آگے بند باندھ سکتا ہے۔ تاہم، یہ واضح کیا گیا ہے کہ آئندہ چند روز میں ان تجاویز میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے کیونکہ ایک سے دو روز میں پی ٹی آئی کے اندر ان پر بحث و مباحثہ ہوگا جس کے بعد انہیں پارلیمنٹ میں بحث کیلئے پیش کیا جائے گا تاکہ قانون کو اکثریت کے ساتھ منظور کیا جا سکے۔ان تجاویز میں ریپ کو ناقابل مصالحت جرم بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ فریقین کے درمیان مقدمہ خارج کرنے کیلئے کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکے گا۔ فی الوقت یہ ایسا جرم نہیں ہے جس پر تختہ دار کی سزا دی جا سکے۔ تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ بچوں کے ساتھ یہ شرمناک حرکات کرنے والوں کو تختہ دار پر چڑھا دینے کی سزا دی جائے اور ساتھ ہی خواتین کے ساتھ اسی جرم کے کیس میں اگر سنگین پہلو جڑے ہوں تو اس کیس میں بھی مجرم کو تختہ دار پر چڑھا دینے کی تجویز ہے ۔ ایسے دیگر کیسز میں اگر کسی مجرم کو عمر قید کی سزا سنائی جائے گی تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ تادم مرگ قید میں رہے گا۔ اگر ایسے کیس کے مجرم کو مخصوص برس تک قید کی سزا سنائی جائے تو اسے کسی طرح کی معافی نہیں مل سکے گی۔ ایسے سزا یافتہ مجرموں کو کسی طرح کی معافی یا سزا میں رعایت نہیں ملے گی۔ایک اور تجویز یہ بھی ہے کہ ایسے کیسز کی تحقیقات گزیٹڈ افسر ترجیحاً خاتون افسر کریں گی۔ تیز رفتار ٹرائل کو یقینی بنانے کیلئے تجویز ہے کہ ایسے کیسز کیلئے اسپیشل کورٹس تشکیل دی جائیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایسے جرائم کا شکار ہونے والا متاثرہ شخص عدالت میں پیش ہونے میں مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔