اجمل جامی کا تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) سینئر تجزیہ کار اجمل جامی نے بتایا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پاکستان میڈیکل کمیشن بل کی منظوری کے بعد پی ایم ڈی سی باقاعدہ غیر فعال ہو گئی، ساٹھ کی دہائی میں معروض وجود میں آنے والے ادارے پی ایم ڈی سی میں کل ڈھائی سو ملازمین کام کرتے ہیں،

نئے بل میں ایک شق کے ذریعے ان کی ملازمتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن نئے بل سے پہلے ادارے کے یہ ملازمین کس قدر معاوضہ وصول کرتے تھے ، ہوشربا تفصیلات سامنے آ گئیں۔ ذرائع سے موصول تفصیلات کے مطابق ادارے کے پرائیویٹ سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تقریباً تین گنا زیادہ یعنی 6 لاکھ 5 ہزار روپے تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ اکائونٹ افسر 4 لاکھ 43 ہزار ، پرسنل افسر 4 لاکھ28ہزار تک بھاری بھرکم معاوضہ وصول کرتے رہے ۔ نئے قانون کے مطابق ادارہ اب ان ملازمین کا از سر نو تقرر اور تنخواہوں کا تعین بھی کر سکے گا۔ اس سلسلے میں پی ایم ڈی سی کے سابق ذمہ دار سے رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ چونکہ سالہا سال سے ملازمین کی ترقیاں نہ ہوسکیں اس لئے ان کے تنخواہیں سالانہ بنیادوں پر بڑھتی رہیں کئی دیگر اداروں کے ملازمین بھی بھاری معاوضوں پر کام کرتے ہیں۔ پی ایم ڈی سی کے ملازمین کی دستیاب فہرست کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے پرائیویٹ سیکرٹری، پرسنل آفیسر کے عہدوں پر مجموعی طور پر پانچ افراد ملازمت کر رہے تھے جن کی زیادہ سے زیادہ تنخواہ 6 لاکھ اور کم سے کم2لاکھ 90 ہزار تھی۔ فرنٹ ڈیسک آفیسر ایک لاکھ62ہزار لیتا تھا۔ فائلیں نتھی کرنے والے عہدیدار جنہیں کی پنچ آپریٹر کہا گیا ایک لاکھ 64 ہزار،

سٹینو ٹائپسٹ ایک لاکھ 37 ہزار سے تین لاکھ21 ہزار جبکہ سینئر ڈرائیور ایک لاکھ 48 ہزار روپے تک تنخواہ وصول کرتا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ فریش ڈاکٹر 60 ہزار جبکہ پی ایم ڈی سی کے ہاں تعینات ایک ڈرائیور ایک لاکھ 42 ہزار تنخواہ وصول کرتا رہا۔ پی ایم ڈی سی کے سابق ذمہ دار نے مزید پوچھنے پر بتایا کہ ان تنخواہوں سے ٹیکس بھی کاٹا جاتا اور دیگر مراعات شامل نہیں ہوتی تھیں۔ پی ایم ڈی سی تنخواہیں خود جنریٹ کرتا نہ کہ حکومت سے لیتا۔ پی ایم ڈی سی کی مجموعی ماہانہ تنخواہیں 3 کروڑ 10 لاکھ، بنیادی تنخواہ ایک کروڑ سے زائد جبکہ الائونسز کی مد میں دو کروڑ سے زائد کی رقم خرچ ہوتی، صرف ہیلتھ الائونس کی مد میں پچاس فیصد الائونس خرچ ہوتے ۔ آڈیٹر جنرل اسی نقطے پر ہمیشہ اعتراض اٹھاتے رہے ۔ نئے قانون کی روح سے اب پاکستان میڈیکل کمیشن میڈیکل اور ڈینٹل ایجوکیشن سے لے کر ان کی پریکٹس تک کے معاملات کو ریگولیٹ کرے گا۔پہلی بار کونسل میں ڈاکٹروں کے علاوہ بھی شعبہ ہائے زندگی کی نمائندگی یقینی بنائی گئی ہے تاکہ عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے ۔ حکومتی ذرائع کے مطابق کمیشن میں شامل کوئی ممبر کسی ٹیچنگ ہسپتال، کالج یا یونیورسٹی کا مالک نہیں ہوگا۔ سابق ذمہ دار پی ایم ڈی سی پنچ آپریٹر 1لاکھ 64ہزار، فرنٹ ڈیسک آپریٹر 1لاکھ 62ہزارلیتا ترقیاں نہ ہوسکیں اسلئے تنخواہیں بڑھتی رہیں۔