کیپٹن اسفند یار کے خاندان کے بزرگوں کا ایک واقعہ آپ کا ایمان تازہ کردے گا

لاہور (ویب ڈیسک) پشاور میں بڈابیر ایئر بیس پر 18ستمبر 2015کو شرپسندوں نے دھاوا بولا ۔ ان کا مقابلہ کرتے ہوئے نہ صرف 28جوان قربان ہو گئے ۔کیپٹن اسفند یار جو اسٹاف افسر تھے انہوں نے اصرار کرکے اس کارروائی کی کمانڈ حاصل کی اور پھر کچھ ہی دیر میں بغیر کسی جانی نقصان کے13 شرپسندوں کو

نامور کالم نگار محمد بلال غوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ واصل جہنم کردیا ۔ اب ایک بچ گیا تھا، جب ایریا کلیئر کیا جا رہا تھا تو اس شرپسند نے اچانک ہلہ بول دیا جس سے کیپٹن اسفند یار وطن پر قربان ہو گئے مگر ضلع اٹک کے اس بخاری خاندان کی داستان شجاعت کا آغاز 1857 سے ہوتا ہے۔ اٹک سے پنڈی گھیب جاتے ہوئے راستے میں ایک چھوٹا سا قصبہ آتا ہے جس کا نام ہے ’’کِسراں‘‘۔ سید صاحب شاہ بخاری نے 1845میں یہاں ایک عظیم الشان مکتب کی بنیاد رکھی جس میں عربی ،فارسی اور ریاضی کے علاوہ فن سپاہ گری کی تعلیم دی جاتی تھی۔اسی اثنا میں 1857کی لڑائی کا آغاز ہوجاتا ہے اور مزاحمت کی بازگشت ضلع اٹک کے اس چھوٹے سے گائوں میں بھی سنائی دینے لگتی ہے۔ کیپٹن اسفند یار کے والد ڈاکٹر فیاض حسین بخاری نے اپنے بڑے بیٹے یعنی اسفند یار کے بڑے بھائی شہر یار کے استفسار پر ماہنامہ حکایت کے 1990میں شائع ہونے والے شمارے میں یہ داستان بیان کی ہے۔ ڈاکٹر فیاض حسین بخاری لکھتے ہیں کہ سید صاحب شاہ بخاری کو مولوی احترام الدین فرید کوٹی کا پیغام ملا۔ اگلے ہی روز انہوں نے مدرسے کے سامنے ایک مجمع میں اعلان جہاد کردیا۔ چند ہی دنوں میں سید صاحب شاہ کے پاس 400جوان اکھٹے ہوگئے ان میں سے پچاس سے زیادہ ان کے شاگرد تھے۔اس وقت ڈاکٹر فیاض حسین بخاری کے دادا اور اسفند یار کے پردادا یعنی سید صاحب شاہ کے بیٹے حیدر شاہ محض چار سال کے تھے مگر یہ بطل حریت اپنے کم سن بیٹے اور رفیقہ حیات کو اٹک میں چھوڑ کرجون 1857میں mujahidinکے قافلے

کی قیادت کرتے ہوئے کِسراں سے لاہور کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ قافلہ سخت جاں چند دنوں کی مسافت کے بعد ہی لاہور پہنچ گیا۔ لاہور میں مولوی احترام الدین فرید کوٹی کے ہاں بھی لگ بھگ 150جوان جمع تھے۔ ان مسلم نوجوانوں کی منزل دہلی تھی جہاں آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں انگریزو ں سے آزادی کی لڑائی لڑی جا رہی تھی مگر یہ سفر کٹھن اور دشوار ہی نہیں پرخطر بھی تھا کیونکہ لاہور سے دہلی جانے والے تمام راستوں پر کڑی نگرانی کا سلسلہ جاری تھا اور نہ صرف انگریز بلکہ ان کے ایجنٹ کا کردار ادا کرنے والے مقامی افراد بھی مسلمانوں کی بو سونگھتے پھرتے تھے۔تمام تر خطرات کے باوجود mujahidin کا یہ قافلہ اگست 1857میں دہلی کے لال قلعہ تک پہنچ گیا جہاں مغل بادشاہ بہادر ظفر کے زیر سایہ فوج کی قیادت روہیلہ سردار بخت خان کر رہے تھے۔ سید صاحب شاہ بخاری نے کئی معرکوں میں شجاعت کا مظاہرہ کیا تو انہیں فوج کی ایک ٹکڑی کا کمانڈر بنادیا گیا اور یہ دستہ پگڑی والے کے لشکر کے نام سے مشہور ہو گیا۔ سید صاحب شاہ بخاری اور ان کی کمان میں موجود mujahidin کو دہلی کے مشہور اجمیری دروازے کی حفاظت پر مامور کیا گیا۔ اُدھر انگریز فوج کے جنرل نکلسن جن کا شمار نہایت قابل فوجی افسروں میں ہوتا تھا،کو اب دہلی کا قبضہ واپس لینے کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی تھی اور وہ اپنی فوج کیساتھ دہلی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔جنرل جان نکلسن بہادر ہونے کیساتھ ساتھ نہایت ظالم اور سفاک انسان تھا۔

اس نے سیالکوٹ اورپشاور سمیت کئی علاقوں میں بغاوت کرنے والے مقامی سپاہیوں کو بغیر ٹرائل کے زندگی سے محروم کروانے کا کلچر متعارف کروایا۔ اجمیری دروازے کے معرکے میں سید صاحب شاہ بخاری کے دستے نے جنرل نکلسن کو گھائل کردیا اور وہ بعد ازاں تاب نہ لاتے ہوئے مر گیا۔قبل ازیں جنرل نکلسن نے 14ستمبر 1857کو نئی حکمت عملی کے تحت انگریز فوج اور اس کے زیر سایہ لڑنے والے مقامی لشکر کو پانچ حصوں میں تقسیم کرکے پانچ مختلف اطراف سے بیک وقت دھاوا بولنے کا منصوبہ بنایا۔ سب سے شدید ہلہ اجمیری دروازے پر بولا گیا اور اس کی حفاظت پر مامور سید صاحب شاہ کے دستے نے انگریز فوج کی توقعات سے کہیں بڑھ کر مزاحمت کی۔ انگریز میجر جیک فصیل پر چڑھ آیا مگر اس سے پہلے کہ وہ ہتھیار سیدھا کرتا، سید صاحب شاہ کے دستے میں شامل ایک جوان نے اسے زندگی سے محروم کردیا ۔ اٹک کے مٹھیال قبیلے سے تعلق رکھنے والے mujahidin نہایت بے جگری سے لڑے اور ایک موقع پر انگریز فوج کو پسپا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔کیپٹن اسفند یار بخاری کے والد ڈاکٹر فیاض حسین بخاری کے پردادا سید صاحب شاہ نے جوانوں کا حوصلہ بڑھایا اور انہیں للکارتے ہوئے کہا، میرے مجاہد ساتھیو! تم بہت دور سے آئے ہو، تم پہاڑوں سے shahadat کا عزم لیکر آئے ہو۔ پیٹھ مت دکھانا۔ اجمیری دروازے پر لڑنے والے مٹھیال قبیلے کے پرعزم جوانوں نے تو پیٹھ نہ دکھائی مگر غدار فصیل سے باہر ہی نہ تھے بلکہ قلعے کے اندر بھی موجود تھے۔ ان غداروں نے فصیل کو اندر سے توڑ دیا تو انگریز فوج کا دستہ اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا۔