بریکنگ نیوز: ریکوڈک پر پاکستان کی بڑی کامیابی، عالمی بینک نے اہم کیس میں پاکستان کی درخواست پر فیصلہ سُنا دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کو ریکوڈک کیس میں بڑی کامیابی مل گئی، عالمی بینک کے ثالثی فورم اکسیڈ نے پاکستان کے 6 ارب ڈالر جرمانے پر حکم امتناع جاری کر دیا۔ نجی ٹی وی نیوز کے مطابق جولائی 2019ء میں انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ (اکسیڈ) ٹریبونل نے

آسٹویلوی کمپنی ٹیتھیان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پاکستان کو 6 ارب ڈالر آسٹریلوی کمپنی کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اٹارنی جنرل پاکستان کا کہنا ہے کہ ریکوڈک کے معاملے پر یہ پاکستان اور اس کی قانونی ٹیم کی بڑی کامیابی ہے، 2019ء میں پاکستان نے 6 ارب ڈالر جرمانہ کالعدم قرار دلانے کے قانونی کارروائی شروع کی تھی۔ اٹارنی جنرل کے مطابق اکسیڈ نے10 مارچ 2020ء کو پاکستان کی درخواست پر 6 ارب ڈالر جرمانے کی ادائیگی روکنے کا عبوری حکم امتناع دیا تھا، اپریل 2020ء میں حکم امتناع مستقل کرنے کی سماعت ویڈیو لنک پر ہوئی اور اب حکم امتناع جاری کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 16 ستمبر کو اکیسڈ نے پاکستان کے حق میں حکم امتناع کو مستقل کرنے کا حکم دیا ہے، ریکوڈک کے معاملے پر حتمی سماعت مئی 2021ء میں ہوگی۔ اس سے قبل انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹس نے ریکوڈک کا معاہدہ منسوخ کرنے کی پاداش میں پاکستان پر 5 ارب 97 کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا، جس پر حکومت پاکستان نے کیس میں عائد جرمانے کو روکنے کے لیے امریکی وفاقی عدالت سے رجوع کیا اور دعوے میں کہا کہ بین الاقوامی ثالثی ٹربیونل نے بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کیا ہے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلیے غلط طریقہ کاراپنایا گیا۔اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ عالمی عدالت برائے سرمایہ کاری تنازعات ریکوڈک کیس میں عبوری حکم امتناع جاری کرچکی ہے اور عالمی عدالت پاکستان کی نظرثانی درخواست پر سماعت کے لیے ٹربیونل تشکیل دے گی۔