یہ پاکستان ہے پیار ےیہاں ایسے ہی ہوتا ہے ۔۔۔!

علی ساہی(ویب ڈیسک) بڑی بدعنوانی میں افسران کوکلین چٹ جبکہ نچلےعملے کی شامت آ گئی، پولیس ٹریفک پنجاب ہیڈ کوارٹر میں مالی سال 2017اٹھارہ میں فنڈزاور پیٹرول کےاخراجات کی مد میں پونےآٹھ کروڑ کی بدعنوانی ثابت، دوڈی آئی جی اور ایک ایس ایس پی بےگناہ قرار جبکہ اکاونٹنٹ اورکلرک پر بدعنوانی ثابت ہوگئی، معاملہ اینٹی بدعنوانی کو بھجوانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

پولیس میں عجب بدعنوانی کی غضب کہانی جس میں بڑے افسران کو کلین چٹ مل گئی ہےجبکہ چھوٹا عملہ قابو آگیا، ٹریفک پولیس ہیڈ کوارٹرمیں پونے8 کروڑکےقریب کرپشن سامنےآئی تھی جس میں ایڈیشنل آئی جی فاروق مظہر،ڈی آئی جی سرفرازفلکی سمیت 3افسران کو کلیئر کر دیا گیا۔انٹرنل اکاونٹیبلٹی برانچ کی انکوائری میں اکاونٹنٹ اخترسعیداورکلرک عابد پرخردبردثابت ہوگئی، اکاونٹنٹ اخترسعیداور کلرک عابدافسران کے دستخط کےبعداسی طرزکا خود بل تیار کرکے اے جی آفس میں سازبازکرکےمنظور کرا لیتے تھے اسی طرح دفاتر میں کم اخراجات کےبلزکی رقم ڈبل کرکے اے جی افس سےمنظور کرائی جاتی رہی۔انکوائری میں یہ بات سامنےآئی ہے کہ اکاونٹنٹ اختر سعیدبل تیارکرتا جبکہ عابد جعلی دستخط کرنےکا ماہرتھا جس کےذریعےانہوں نے خزانہ کو پونے 8کروڑ نقصان پہنچایا ہے اس دوران ٹریفک ہیڈ کوارٹر میں تعینات ایڈیشنل آئی جی فاروق مظہر، ڈی آئی جی سرفراز فلکی سمیت 3افسران تعینات رہے۔تینوں افسران سےمکمل انکوائری کی گئی لیکن بے گناہ قرار پائے، مالی سال 2018انیس میں اڑھائی کروڑ سے زائد کی بدعنوانی ثابت ہونے پراکاوٹنٹ اختر سعیدشاہ اور عابد کلرک گرفتارہیں جبکہ اس دوران ناقص سپرویژن پر ڈی آئی جی اخترعباس شاہ کےخلاف ایکشن لینے کے لئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کومراسلہ بھجوایاگیا ہے۔انٹرنل اکاوٹیبلٹی برانچ نےمعاملہ بدعنوانی کو بھجوادیا جہاں پر دوبارہ انکوائری کرکےملزمان کے خلاف ایکشن لینے کی درخواست کی گئی ہے ۔ سپرویژن پر ڈی آئی جی اخترعباس شاہ کےخلاف ایکشن لینے کے لئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کومراسلہ بھجوایاگیا ہے۔انٹرنل اکاوٹیبلٹی برانچ نےمعاملہ اینٹی بدعنوانی کو بھجوادیا جہاں پر دوبارہ انکوائری کرکےملزمان کے خلاف ایکشن لینے کی درخواست کی گئی ہے ۔