پاکستانیوں کے لیے بُری خبر!1 لااکھ 27 ہزار پاکستانی اب کویت نہیں جا سکیں گے مگر کیوں؟ کویتی وزارتِ داخلہ نے اعلان کر دیا

کویت (نیوز ڈیسک ) کورونا بحران کے دوران کویتی وزارت داخلہ نے بیرون ملک رہ جانے والے اقامہ ہولڈروں کے لیے انسانی بنیادوں پر سہولت دی تھی کہ وہ اپنے اقامے آن لائن تجدید کروائیں۔تاہم اس سہولت سے جن لوگوں نے فائدہ نہیں اٹھایا یا، اب وہ واپس نہیں آ سکتے کیونکہ رعایتی

مُدت کے بعد ان کے اقاموں کی اب تجدید نہیں ہوں گے۔تقریباً ایک لاکھ 27 ہزار اقامہ ہولڈرز اقامہ ہولڈرز نے اپنے اقاموں کی مُدت میں توسیع نہیں کروائی جس کے باعث اب وہ کویت واپس نہیں جا سکیں گے۔ ان میں ہزاروں پاکستانی بھی شامل ہیں۔ اُردو نیوز کے مطابق کویتی وزارت داخلہ کے ذرائع نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث بیرون ملک پھنس جانے والے وہ غیر ملکی جنہوں نے مہلت کے دوران اپنے اقاموں کی آن لائن تجدید نہیں کی وہ کویت واپس نہیں آسکتے۔وزارت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ’علاوہ ازیں ان ممالک کے اقامہ ہولڈر بھی واپس نہیں ا?سکتے جن کے شہریوں پر کویت آنے کی پابندی ہے‘۔ذرائع نے کہا ہے کہ ’اس وقت بیرون ملک رہ جانے والے اقامہ ہولڈر غیر ملکیوں کی تعداد 5 لاکھ کے لگ بھگ ہے‘۔دوسری طرف وزارت داخلہ نے وضاحتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وزیر داخلہ نے ملک میں موجود غیر ملکیوں کے اقاموں کی تین ماہ مفت تجدید کی ہدایت کی ہے‘۔’یہ تجدید یکم ستمبر سے 30 نومبر تک ہوگی تاہم اس سہولت سے وہ لوگ فائدہ نہیں اٹھا سکتے جن کے اقامے یکم ستمبر کے بعد ختم ہوئے ہیں۔ وزارت نے وضاحت کی ہے کہ ’اس سہولت سے صرف وہ غیر ملکی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کے اقامے 31 اگست تک ختم ہوئے ہیں‘۔