عمران حکومت کی ایک اور سفارتی کامیابی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) بھارتی اعتراض مسترد کرتے ہوئے روس نے بھی پاکستان کے نئے سیاسی نقشے کی حمایت کردی ۔ وزیراعطم کے مشیر برائے نیشنل سکیورٹی ڈاکٹر معید یوسف نے بتایا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزرز کے آن لائن ہونے والے اجلاس میں روس کی طرف سے پاکستان کے نئے سیاسی نقشے کی حمایت کی گئی،

جبکہ دیگر تمام ممبران کی جانب سے پاکستان کے سیاسی نقشے پر بھارتی اعتراض کو مسترد کیا گیا۔میڈیا بریفنگ میں ڈاکٹر معید یوسف نے بتایا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے آن لائن اجلاس کے آغاز پر روس نے میزبان کی حیثیت سے ٹیکنیکل ٹیسٹ کیلئے کہا تاکہ بعد میں کوئی مسائل سامنے نہ آئیں، اسی دوران بھارت نے پاکستان کے سیاسی نقشے پر اعتراض کیا،تاہم تمام رکن ممالک کی طرف سے بھارتی اعتراض کو مشترکہ طور پر مسترد کیا گیا جبکہ پاکستان نمائندے کی تقریر کے دوران بھارتی سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول نے بائیکاٹ کیا تاہم پاکستان کی طرف سے اپنا موقف بیان کیا گیا اور خطے میں امن و استحکام کیلئے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بھی بتایا۔واضح رہے بھارت کو عالمی سطح پر ایک اور شکست کاسامنا اس وقت کرنا پڑا جب سیکیورٹی ایڈوائزرز کےاجلاس میں اجیت دوول کا پاکستان کے سیاسی نقشے پر کیا گیا اعتراض مسترد کردیا گیا ۔ میڈیا ذرائع کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سیکیورٹی ایڈوائزرز کا آن لائن اجلاس ہوا ، جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم عمران خان کے سکیورٹی ایڈوائزر معید یوسف نے کی ، معید یوسف نے ویڈیو لنک اجلاس کے دوران پس منظر میں نیا نقشہ لگایا ہوا تھا جس پر بھارتی مشیرقومی سلامتی اجیت دوول کی طرف سے پاکستان کے سیاسی نقشے پر اعتراض کیا گیا تاہم اس موقع پر شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے کشمیر سے متعلق پاکستانی مؤقف کی تائید کردی ۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کا سیاسی نقشہ جاری کیا تھا ، جس میں بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیرکو پاکستان کا حصہ ظاہر کردیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے پاکستان کے نئے نقشے کی منظوری دے دی، نیا نقشہ اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں