معروف خاتون صحافی ابصاء کومل کا اہم تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) ایک المناک واقعے نے ملک بھر کے عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ خوف کا عالم یہ ہے کہ وہ خواتین بھی، جو سالہا سال سے اپنے سارے کام خود کرتی آئی ہیں، اس بات کا اظہار کر رہی ہیں کہ اب گھر سے نکلتے وقت ڈر لگتا ہے۔

نامور خاتون صحافی ابصاء کومل اپنے ایک بلاگ میں لکھتی ہیں۔۔۔۔۔۔سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر اس معاملے کے ہر پہلو پر بحث ہو رہی ہے۔ موقف مختلف ہو سکتا ہے لیکن سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اب بہت ہوگیا یہ انسانیت سوز سلسلہ اب روکنا ہو گا۔ سماجی تنظیمیں، سیاسی جماعتیں، شوبز شخصیات اور عام شہری سب ہی سڑکوں پر نکل کر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مجرم کو ایسی سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی ایسا کرنے کا سوچے بھی نہیں، واضع طور پر مجرم کو سرعام تختہ دار پر چڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔جب وزیراعظم عمران خان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ”خواتین اور بچوں کے ساتھ بداخلاقی کے مرتکب عناصر عبرتناک سزا کے مستحق ہیں۔ انہیں سرعام سزا دی جانی چاہیے لیکن عالمی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق یہ ممکن نہیں۔ وزیراعظم نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ اس جرم کی مرتکب شخص کو ناکارہ بنا دیا جانا چاہیے تاکہ وہ عبرت کا نشان بن جائیں۔‘‘تختہ دار کے حق میں یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ اس سے جرائم پیشہ افراد کو خوفزدہ کیا جا سکتا ہے، قید کی نسبت زندگی سے ہاتھ دھونے کا خوف زیادہ پراثر ہو سکتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ بیشتر انسانی حقوق کی تنظیمیں دنیا بھر میں کی گئی ریسرچ کا حوالہ دے کر مجرم کو سرعام سزا دینے یا ناکارہ بنا دینے کی مخالفت کرتی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 193 میں سے 142 ممالک

میں تختہ دار پر چڑھانے کے قانون کو ختم کر دیا گیا ہے، جن میں چند مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔ ترکی اور دنیا کے دیگر کئی ممالک، جہاں قانون تو موجود ہیں لیکن تختہ دار کی سزا دینے کا رجحان کم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ابھی بھی کئی ممالک میں بہت سے جرائم پر یہ سزا دی جاتی ہے، جن میں چین، سعودی عرب اور ایران سرفہرست ہیں۔ سعودی عرب کی مثال دی جائے تو ایمنسٹی انٹرنیشل کی رپورٹ کے مطابق بےشمار مجرمان کو تختہ دار پر چڑھانے کے باوجود سعودی عرب میں ان جرائم کی شرح میں کوئی خاص کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ماہرین نفسیات کی جانب سے اس بات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ذہنی طور پر تندرست انسان ایسا عمل نہیں کر سکتا، ایسا گھناؤنا جرم کرنے والوں کو سزا کے ساتھ ساتھ دماغی علاج کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایسے واقعات میں اکثر متاثرہ شخص کے قریبی لوگ یا رشتہ دار ہی ملوث پائے جاتے ہیں۔ موت کی سزا کی صورت میں ایسے واقعات کے رپورٹ ہونے میں کمی آ سکتی ہے، یاد رہے پاکستان میں ایسی شکایت پولیس کو درج کرانے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہےاور اس کی ایک بڑی وجہ معاشرتی دباو ہے۔یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ تختہ دار کی سزا کی صورت میں مجرم یہ یقینی بنانا چاہے گا کہ متاثرہ شخص کی زندگی کا خاتمہ کر دے تاکہ وہ مجرم کی نشاندہی نہ کر سکے۔ جوڈیشل سسٹم کی موجودہ صورتحال اور تحقیقاتی صلاحیتوں میں کمی کی وجہ سے قانون کے غلط استعمال کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جن ممالک میں اس سزا کا قانون نہیں ہے، وہاں کرائم ریٹ سب سے کم ہے مثلاﹰ ناروے، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ اور نیوزی لینڈ۔ لیکن یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ان یورپی ممالک میں آبادی کم ہے اور قوانین سخت ہیں، اس لئے پاکستان جیسے ممالک سے ان کا موازنہ درست نہیں۔لیکن پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس جرم کے مرتکب شخص کے ساتھ ایسا کیا کیا جائے کہ وہ یا کوئی دوسرا ایسا کرنے کا سوچے بھی نہیں۔ اس بارے میں جذبات سے آگے بڑھ کر سوچنا ہو گا۔ اس بات پہ غور کرنا ہو گا کہ کیسے پراسیکیوشن کے نظام میں بہتری لائی جائے؟ ایسے کیسز کو فوری رپورٹ کرنے کے عمل کی حوصلہ افزائی کی جائے، خواتین پولیس اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے، فارنزک لیبارٹریاں بنائی جائیں اور لوگوں کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے تربیتی پروگرام متعارف کروائے جائیں۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے قومی اسمبلی میں بہت واضع طور پر بیان کیا کہ پاکستان میں مسئلہ سزا کا موجود ہونا نہیں بلکہ بروقت انصاف کا نہ ملنا ہے۔ صرف پانچ فیصد کیسز میں سزا ہوتی ہے۔ وقت کی ضرورت ہےکہ نظام عدل میں اصلاحات ہوں، جس میں چار چیزیں شامل ہیں پولیس، میڈیکل، عدالت اور قید۔

اپنا تبصرہ بھیجیں