بریکنگ نیوز:5سال کے دوران ریلوے میں کتنا خسارہ ہوا؟ جان کر آپ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) محکمہ ریلوے کی گزشتہ 5 سال کے دوران خسارے کی رپورٹ سینیٹ میں پیش کردی گئی، سب سے زیادہ خسارہ مالی سال 20-2019 میں 50 ارب 15 کروڑ رہا۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ اجلاس کے وقفہ سوالات کے دوران گزشتہ 5 سال کے ریلوے خسارے کی تفصیلات پیش کردی گئیں، رپورٹ کے مطابق 5 سال ے دوران ریلوے 187 ارب سے زائد خسارے میں رہا۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 20-2019 میں ریلوے کا خسارہ سب سے زیادہ رہا، اس عرصے میں ریلوے کا خسارہ 50 ارب 15 کروڑ رہا۔رپورٹ میں کہا گیا

کہ مالی سال 19-2018 میں ریلوے کا خسارہ 32 ارب 76 کروڑ جبکہ مالی سال 18-2017 میں یہ خسارہ 36 ارب 62 کروڑ رہا۔اسی طرح مالی سال 17-2016 میں ریلوے خسارہ 40 ارب اور 16-2015 میں 26 ارب 99 کروڑ رہا۔خیال رہے کہ ریلوے خسارہ ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ نے ریلوے کی ری اسٹرکچرنگ کے لیے 4 ہفتے کی مہلت دی ہے۔چیف جسٹس، جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ فنڈز موجود ہیں تو منصوبہ مکمل ہونے میں وقت نہیں لگنا چاہیئے، 18 سو کلو میٹر کا ٹریک بچھانا چین کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی پنشن روکنے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی پنشن روکنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔عدالت میں سماعت کےدوران سرکاری وکیل نے کہا کہ جواب جمع کرنے کے لیے 4 ہفتے چاہئیں جس پر چیف جسٹس استفسار کیا کہ جواب کی ضرورت نہیں، آپ کیسے پنشن روک سکتے ہیں؟ آپ نے کس قانون کے تحت پنشن روکی۔نمائندہ اکاؤنٹنٹ جنرل آفس نے عدالت کو بتایا کہ سی ایس آر 420 ون کے تحت پنشن روکی گئی، عدالت نے نمائندہ اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کو قانون پڑھنے کا حکم دیا۔سرکاری وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بشیر میمن نے نوکری سے استعفیٰ دیا تھا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا استعفیٰ دینے پر پابندی ہے؟استعفیٰ منظور کر لیا،دستاویز مکمل ہوگئے تو پنشن کیسے روکی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیا آج تک کسی بڑے افسر کی پنشن روکی گئی ہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ جس قانون کا آپ حوالہ دے رہے اس کے تحت تو پنشن نہیں روک سکتے،آپ کے ساتھ یہ کون ہے کیا یہ آپ کے آفس کے کرتا دھرتا ہے، کیوں ناں ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشیر میمن کی پنشن روکنے کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کو کیس پر نظرثانی کا حکم دے دیا۔بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 10 دن کے لیے ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں