مس جی مجھے چٹ لکھ دیں …..

لاہور (ویب ڈیسک) ایک اسکول میں بچیوں سے پوچھا گیا کہ آپ کے ابا کیسے ہیں۔ کسی نے کہا بہت اچھے کسی نے کہا ہر وقت گالیاں دیتے اور مارتے ہیں۔ ایک بچی نے کہا ’’مس چٹ لکھدیں، ابا، امی کو ہمارے سامنے نہ مارا کریں۔ یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی‘‘۔

نامور خاتون کالم نگار کشور ناہید اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ایسے ماحول میں جوان ہوئی بچیاں شادی سے انکار کردیتی ہیں۔ بہت سی بچیاں ذہنی مریض بن جاتی ہیں۔ یہ جتنے لوگ ایسی اذیت دیتے ہیں کیا یہ پڑھے لکھے ہوتے ہیں اب چونکہ پریس میڈیا میں آنے لگا ہے تو لوگوں کو پتا چل رہا ہے۔ عیسائی مذہب میں بھی ایسی وارداتیں پچھلی صدی میں اتنی عام تھیں کہ ان پر ناول بھی لکھے گئے۔ پادریوں اور خواتین ننوں کے قصے بھی عام ہونے لگے تو بیسویں صدی میں پوپ نے اجازت دی کہ جو پادری شادی کرنا چاہیں انہیں اجازت ہے۔وحشت یوں تو سارے ممالک میں ہے مگر بھارت، پاکستان میں تو ٹیکسی میں بیٹھی عورت بھی اب محفوظ نہیں رہی ہے۔ یہی سبب ہے کہ دیہات میں لڑکی اور خاندان کی عزت بچانے کے لئے جلدی شادی کردی جاتی ہے مگر اسکے اچھے نتائج تو نہیں نکلتے ہیں۔ ہاتھ میں دوسری شادی کا اجازت نامہ پکڑا کر وہ ایک اور گھر بسا لیتا ہے۔جس دن سے فرانس سے آنے والی خاتون کے ساتھ اور ڈی۔ جی۔ خاں کی تحصیل میں ایک خاتون کے ساتھ اسطرح غلط کاری ہوئی کہ دونوں خواتین کے بچے سامنے موجود تھے۔ اس دن سے مجھے یہ دکھ کھائے جارہا ہے کہ جن بچوں نے یہ منظر دیکھے، انکی نفسیات کیسی ہوگی۔ کیا انکے اندر بھی عورت چاہے وہ ماں ہی کیوں نہ ہو، اس کی نفسیات پرورش پائے گی کہ وہ بچے سہمے نوجوان ہوں گے، انکے اندر عورت کا کیا تصور مستحکم ہوگا۔ وہ سارے مذہبی پیشوا جو دوسری شادی کی اجازت طلب کررہے ہیں، کیا عورتوں پر ہوتے ظلم پر زبان نہیں کھول سکتے۔ میں تو خدا کا شکر کرتی ہوں کہ اخباروں نے ان خواتین پر فیس بک والے فقرے رپورٹ نہیں کئے۔ شکر ہے کہ خواتین کے گھر والے انٹرویو نہیں دینے دے رہے ہیں۔ مجھے تو بار بار وہ عدالتیں یاد آتی ہیں جہاں جبر کی شکار عورتوں سے کہتے ہیں ’’ذرا کھل کے دسو، ہویا کی اونیں تیرے نال کی کیتا اے‘‘۔ افسوس اور حیرانی کے ساتھ عمر شیخ کی اسد عمر کے ساتھ بےہودہ گفتگو اور اس خاتون کے بارے میں نازیبا کلمات اللہ اسے معاف نہیں کرےگا۔

مس جی مجھے چٹ لکھ دیں …..” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں