2013 میں اسی ملزم عابد ملہی نے خادم اعلیٰ شہباز شریف کو کیسے تگنی کا ناچ نچایا؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) گیا وقت ہاتھ آتا نہیں ، سدا عیشِ دوراں دکھاتا نہیں۔۔۔ ملیحہ ہاشمی کا اپنے ولاگ میں کہنا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے سے پاکستان مجموعی طور پر جس کرب کا شکار رہا، وہ ناقابلِ بیاں ہے۔ 8 ستمبر، بروز منگل، رات کے آخری پہر میں ہونے والا اندوہناک واقعہ جس میں ایک خاتون کو بچوں سمیت گاڑی کے

شیشے توڑ کر نکالا گیا، اس کے پاس موجود پیسے، زیورات اور ATM کارڈ لوٹ کر، بعد ازاں اسے اپنے بچوں کے سامنے غلط کاری کا نشانہ ، پوری قوم کو جھنجھوڑ گیا۔ جیسے ہی یہ واقعہ میڈیا پر رپورٹ ہوا، ہر طرف ہلچل مچ گئی۔ دہائیوں سے نااہلی کی فضا میں پروان چڑھتی پولیس کی جانب سے شروع میں مجرموں کی بجاۓ مظلوم خاتون کو نصیحتوں کے انبار عطا کیے گئے، جس پر ملک بھر میں تند و تیز بحث کا سلسلہ چل نکلا۔ کہیں خاتون کو موٹروے کی بجائے جی ٹی روڈ کا انتخاب نہ کرنے پر کوسا گیا تو کہیں اسے بچوں کے ساتھ اکیلے سفر کرنے پر سخت سست سنائی گئیں۔ تین دن تک اپنے بےوقت کے غیرموزوں بیان کی توجیہہ پیش کرتے CCPO صاحب کو بالآخر خیال آیا کہ بہرحال اس گفتگو کے لئے نہ تو یہ وقت موزوں تھا، نہ گفتگو کا متن، کہ بہرحال برا وقت انسان کی جنس، عقل و دانش یا سفر کے چناؤ کا وقت دیکھ کر نہیں آتا، بس آ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے بزرگوں کو ہمیشہ بری گھڑی سے اللہ‎ کی پناہ مانگتے دیکھا ہے۔ CCPO صاحب کا اپنے بیان پر کل غیر مشروط معافی مانگنا ایک خوش آئند اقدام تھا۔ اس سب تکلیف دہ مرحلے میں خوش آئند بات بس یہی رہی کہ ملزمان، 27 سالہ عابد علی اور 23 سالہ شفقت علی کی 72 گھنٹوں کے اندر اندر شناخت ہو گئی۔ عابد علی اپنی اہلیہ سمیت روپوش ہو گیا جبکہ شفقت علی کو زیر حراست لے لیا گیا اور تفصیلی تفتیش پر معلوم ہوا کہ ملزم، شفقت علی، عابد علی کے ساتھ 11 ایسے واقعات میں ملوث رہ چکا تھا اور دکھ کی بات یہ کہ عابد علی ابھی دو ہفتے قبل ہی (مزید جرائم کرنے کے لئے) ضمانت پر رہا ہو کر آیا تھا۔ یہ بد فعلی کا واقعہ دو مرحلوں پر روکا جا سکتا تھا۔ ایک تب جب 2013 میں یہی ملزم، عابد علی کسی کے گھر زبردستی داخل ہو کر ایک خاتون اور اس کی بیٹی کو ان کے گھر والوں کے سامنے بد فعلی کا نشانہ بنا کر چلتا بنا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں