جان کر آپ یقین نہیں کریں گے

اسلام آباد(ویب ڈیسک )سینیٹ میں غلط کاری کے مجرموں کو سرعام ل-ٹکانے پرپارلیمانی جما عتیں تقسیم ہوگئیں حکومت نے سرعام ل-ٹکانے کی حمایت کردی سرعام ل-ٹکانے تفریخ نہیں جرم کے خلاف خوف پیداکرے گا۔پیپلزپارٹی نے مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ جرائم کم ہونے کے بجائے اضاف ہوگا

مسئلہ کاحل سرے عام ل ٹکانے نہیں قانون کی حکمرانی ہے ارکان سینیٹ نے کہا کہ پولیس کو ہر دور میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیاگیا،سی سی پی او کوسزادی جائے معافی نہ قابل قبول ہے ،نوجوان سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی سائیٹ رات گئے تک دیکھیں گے تو سانحہ موٹروے کی طرح سانحات ہوں گے،نوجوانو ں کی اخلاقی تربیت میں کمی کے ذمہ دار ہم خود ہیں ،رات بارہ بجے کے بعد حکومت بھ-نگ ،کو-کین اور چ-رس کی وجہ سے سوئی نہیں ٹن ہوتی ہے۔منگل کوسینیٹ کااجلاس چیرمین سینیٹ صداق سنجرانی کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں سانحہ موٹروے پر اظہارخیال کرتے ہوئے مسلم لیگ نے کے رہنماسینیٹرپرویز رشید نے کہاکہ ادراوں کا کام عوام کی نمائندگی کرنا ہے اسٹیبشلمنٹ کی نمائندگی کرنے کے دوسرے ادارے موجود ہیں وہ ادارے آئینی حدود سے باہر آکر تجاوز کرکے اپنی مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں لیکن عوام کے مفاد کا تحفظ کرنے والے اداروں کو ہم نے کمزور کیا اور ان کی آواز دبانے کی کوشش کی۔کوئی میرے گھر داخل ہو کر ماوں بہنوں کی عزت پر ہاتھ ڈالے لیکن میں کہوں کہ میرے ہاتھ میں روٹی ہے میں پہلے روٹی کھاؤں گا میں کہوں کہ میرے ہاتھ میں برش ہے ، میں پہلے جوتے پالیش کروں گا پھر ماں بہن کی عزت بچاوں گا مجھے تو یہ کرنا چاہیے کہ جوتے کا برش اس کے سر پر مارتاایک امر مشرف نے کہا تھا کہ عورتیں یہ کام اس لئے کرتی ہیں کہ انھیں فرانس کا ویزہ مل جائے اس کی سوچ اب سی سی پی او کے پاس پہنچی مشرف کہتا تھا کہ فرانس جانا چاہتی ہے سی سی پی اوکہتا ہے کہ تم فرانس سے آئی کیوں اسے عہدے

سے ہٹائیں درجنوں اور اپ کے ہاتھ کی لاٹھی بن جائی گے اس سوچ کے خلاف حاکم وقت دیوار نہیں بنے گا ، تو یہ واقعات ہوتے رہیں گے وزیر اعظم آپ کام کئا کر رہے ہیں اقتصادیات اپ نے آئی ایم ایف کے حوالے کی ہے خارجہ پالیسی اپ نے بڑے بھائیوں کو دے دی ہے اپ کی پاس اب کیا کام رہ گیا ہے اگر اپ یہ فرض بھی پورا نہیں کریں گے تو کل کوئی دوسرا اس ذمہ داروں کو پورا کرنے آ جائے گا۔لیگ ن کے رہنماء آصف کرمانی نے کہاکہ سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی سائیٹ ہیں نوجوان جب اس طرح کے سائیٹ رات گئے تک دیکھیں گے تو سانحہ موٹروے کی طرح سانحات ہوں گے اس معاشرے کو سائیکولوجسٹ اور سرجری کی ضرورت ہے ایوانوں کو اس میں کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ کوئی اور مسلط ہوجائے گا۔سزا کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے ایسی سزائیں تجویز کرنی ہیں کہ اس طرح کے واقعات نہ ہوں۔سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے ایسے واقعے جو سیاست کی نزر نہ کیا جائے ایسی تجاویز دیں جس سے ان واقعات کا تدارک ہو۔ سی سی پی او کا بیان غیر ذمہ دارانہ تھا یہ کون ہوتے ہیں سوال کرنے والے ان کا کام تحفظ کرنا ہے یہ خطرناک بیان دیاگیا ہے نئے پاکستان میں خواتین اور بچوں کاتحفظ نہ کرنے کا پیغام دیا گیا ہے۔ملزم ابھی تک آزاد ہے سر عام ل ٹکانے پر پیپلزپارٹی یقین نہیں رکھتی ہے مجرمانہ غفلت کو تحفظ دیا جا رہا ہے ضیاء الحق کے دور میں سر عام ل ٹکانے دینے کا رواج شروع ہواہے اس سے جرائم کم کے بجائے زیادہ ہوتے ہیں کل کو آپ ہاتھ کاٹنے کا کہیں گے ہم اصولوں کی بنیاد پر یہ بات کرتے ہیں سر عام ل ٹکانے سے جرائم کم نہیں ہوتے یہ سرکس ضیاالحق نے لگایاتھا لوگ اپنے ہاتھ میں نظام کو لیتے ہیںاس سے معاشرے میں استحصال بڑتا ہے خواتین کو پیغام دیا گیا ہے کہ رات کو نہ نکلیںسی پی او کی معذرت نہ قابل قبول ہے زیا-دتی کرنے والے کو سخت سزا دی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں