قران مجید کی سورۃ المائدہ میں کیا واضح حکم دیا گیا ہے ؟ صابر شاکر کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) ابھی گزشتہ برس نیوزی لینڈ میں مسجد پر اٹیک کا سانحہ ہوا‘ ایک سال کے اندر اندر مجرم کو عمر بھر کے لیے قید خانے تاریک کوٹھڑی میں ڈال دیا جاتا ہے اور نیوزی لینڈ کی وزیراعظم آکر اعلان کرتی ہیں کہ مجرم کبھی بھی سورج کی روشنی نہیں دیکھ سکے گا۔

نامور کالم نگار صابر شاکر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔وہاں پورا نظام مجرم کو سزا دینے کے لیے متحد اور پُرعزم تھا‘ لیکن ہمارے ہاں ایسی کسی بھی صورت میں سارے کا سارا نظام مجرم کی پشت پناہی اور اسے بچانے کے لیے میدان میں آجاتا ہے ۔کوئٹہ میں ساری دنیا نے دیکھا کہ ایک ٹریفک سپاہی کو اچکزئی نے جیپ سے ٹکر مارکر زندگی سے محروم کردیا لیکن عدالت میں اس کے خلاف ثبوت پیش نہ ہوسکے اور ملزم بری ہوگیا ۔ ہم بطور مسلم معاشرہ قرآن مجید سے رہنمائی لے سکتے ہیں‘ جہاں ایسے درندوں کے لیے عبرتناک سزائیں مقرر کی گئی ہیں ۔سورہ مائدہ کی آیت 33میں زمین پر فساد برپا کرنے والوں کے بارے میں ریاست کے لیے حکم ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے کہ جو اللہ تعالی اور اس کے رسولؐ سے لڑیں اور زمیں میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ زندگی سے محروم کردیے جائیں یا سولی پر چڑھا دیے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں سے محروم کر دیے جائیں یا انہیں جلا وطن کردیا جائے ۔یہ تو ہوئی ان کی دنیاوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے لیے بڑا بھاری عذاب ہے ۔ لیکن ہمارا حال ایسا ہوگیا ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا‘ ہم نہ قرآن مجید پر عمل کرتے ہیں اور نہ ہی تعزیرات پاکستان پر۔جب تک ہم بطورِ قوم اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول ﷺکے تابع نہیں کرتے اور کس مقصد کے لیے یہ وطن حاصل کیا گیا اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے‘ہمارا معاشرہ اسی طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہے گا کیونکہ مجرموں کو سزاؤں کی مخالفت کرنے والے بہت کم ذاتی فائدے کے لیے یہاں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہیں گے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب کے لیے یہ امتحان ہے کہ وہ ریاستِ مدینہ کی تشکیل کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں یا پھر مغرب زدہ لوگوں کے دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔آخری اطلاع یہ کہ موٹروے واقعہ کے مجرموں کو جلد عدالت میں پیش کردیا جائے گا‘کاش ایسا نظام ہو کہ کوئی اشتہاری آزاد نہ گھومے اور ہر شہری کو انصاف اس کی دہلیز پر ملے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں