تعز من تشاء وتذل من تشاء : عمران خان کی کوششیں رنگ لائیں ۔۔۔۔۔ پاکستان امت مسلمہ کا لیڈر بن گیا ، دنیا بھر کے مسلم ممالک کے بڑوں کا زبردست فیصلہ سامنے آگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان کو اسلامی مالیاتی نظام کے فروغ کی کوششوں کے اعتراف میں گلوبل اسلامک لیڈر شپ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔یہ ایوارڈ صدر مملکت عارف علوی نے آج اسلام آباد میں دسویں گلوبل اسلامک فنانس ایوارڈز کی تقریب میں وصول کیا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر نے کہا

کہ دنیا میں اسلامی مالیاتی نظام کو فروغ مل رہا ہے تاہم ابھی اس کی پوری صلاحیت کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔صدر مملکت نے اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ پاکستان کے بینکنگ کے شعبے کا17 فیصد نظام شرعی اصولوں پر تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں توانائی کے شعبے میں سکوک بانڈ جاری کئے گئے ہیں۔صدر عارف علوی نے ملک میں اسلامی بینکاری کے فروغ میں مرکزی بینک اور سیکورٹیز ایکسچینج آف پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اسلامی مالیاتی نظام کے بنیادی اصولوں پر عملدرآمد کرنے پر زور دیا جس سے ہم آہنگی اور مساوات پر مبنی معاشرے کے قیام میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ صداقت شفافیت مساوات انصاف اور سماجی ہم آہنگی اسلامی مالیاتی نظام کے بنیادی اصول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی مالیاتی نظام کا بنیادی مقصد غریب لوگوں کو غربت سے نکالنا ہونا چاہیے۔گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ مرکزی بینک عوام میں اسلامی مالیاتی نظام سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کیلئے بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ سٹیٹ بینک کو اسلامی بینکاری کے فروغ پر سال کا بہترین مرکزی بنک بھی قرار دیا گیا ہے۔ ، اسلامی بینکاری صرف پیسوں کے لین دین کا نام نہیں ہے، اسلام کسی بھی شعبے میں استحصال کی اجازت نہیں دیتا ہے،چین کی معاشی اور بینکاری نظام میں چھان بین کا بہترین نظام ہے۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ کورونا وباء کی صورتحال میں بینکاری نظام میں بھی دباؤ آیا۔ اسلامی بینکاری کے 5 اصول ہیں، پہلا یہ جو قرضہ لے رہا ہے اس کے ساتھ معاشرتی انصاف ہو، کیونکہ اسلامی بینکاری صرف پیسوں کے لین دین کا نام نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ یکسانیت ہو، سب برابر ہوں، تیسرا سہولیات نچلے طبقے تک پہنچائی جائے، چوتھا شفافیت ہو، چھپ کر کوئی کام نہ ہو جو چھپ کر کام ہوتا ہے اس پر اسلام اور نظام کا نظریہ خراب ہو جاتا ہے۔ پانچواں اصول یہ ہے کہ سماجی ہم آہنگی ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں