سی سی پی او لاہور عمر شیخ دراصل کون ہیں ، 1999 میں پرویز مشرف کا طیارہ نوابشاہ ائیرپورٹ اترنے والے واقعہ سے انکا کیا تعلق ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ میں بڑے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خان پور سے تعلق رکھنے والے لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ آج کل خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔اس کی بڑی وجہ ان کے حالیہ بیانات، مقدمات اور تنازعات ہیں۔ان پہلوؤں پر بحث آگے بڑھانے سے قبل پاکستان کے

نامور صحافی اعظم خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور پولیس کے سربراہ بننے والے عمر شیخ کی زندگی کے نشیب و فراز پر نظر ڈالتے ہیں مگر پہلے ایک دلچسپ قصے کے بارے میں جاننا ضروری ہے جو ان کے ایک پرانے قریبی دوست نے سنایا:یہ نواز شریف کا دوسرا دور حکومت تھا۔ اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف سری لنکا کا دورہ کرنے کے بعد پاکستان آئے تو انھیں کراچی ایئرپورٹ پر اترنے کی اجازت نہ مل سکی۔نواز شریف حکومت نے پرویز مشرف کو برطرف کر کے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی ضیاالدین بٹ کو نیا آرمی چیف تعینات کر دیا۔مگر یہ پلان ناکام ہو گیا۔جب پرویز مشرف کا طیارہ نواب شاہ کے ایئرپورٹ پر اترا تو پولیس کی طرف سے جو افسر اُن کا استقبال کرنے کے لیے وہاں موجود تھے وہ عمر شیخ ہی تھے۔عمر شیخ اس وقت سندھ کے ضلع نواب شاہ پولیس کے سربراہ تھے۔عمر شیخ اپنے 28 برس کے پولیس کرئیر میں سنہ 1997 سے لے کر 2008 تک سندھ اور پنجاب کے دس اضلاع میں پولیس کے سربراہ رہ چکے ہیں۔عمر شیخ کی واشنگٹن اور پھر گوانتاناموبے میں بھی تعینات رہے۔عمر شیخ نے ابتدائی تعلیم سرکاری سکول سے حاصل کی ہے جسے وہ بڑے فخر سے ‘ٹاٹ سکول‘ کہتے ہیں۔ان کے مطابق انھیں پولیس میں جس طرح سے فیلڈ میں کام کرنے کا موقع ملا ہے وہ کم ہی کسی پولیس افسر کو ملا ہو گا۔ان کے ایک اور بچپن کے

دوست نے بی بی سی کو بتایا کہ عمر شیخ کے والدین سیالکوٹ کے نواحی علاقے ڈسکہ سے ہجرت کر کے خان پور چلے گئے تھے۔ ان کے والد چمڑے کا کاروبار کرتے تھے۔عمر شیخ نے ابتدائی تعلیم خان پور سے حاصل کی اور پھر 1989 میں مقابلے کا امتحان پاس کیا۔عمر شیخ کے بچپن کے دوست جن کا تعلق خان پور کے قریب تحصیل لیاقت پور سے ہے کا کہنا ہے کہ عمر شیخ کا ابتدائی دنوں میں مذہب کی طرف رحجان زیادہ تھا۔ان کے دوست کا کہنا ہے کہ عمر شیخ ایک ہنس مکھ اور یار باش انسان ہیں اور انھیں شعر و شاعری سے خاصا لگاؤ ہے۔عمر شیخ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم بی اے کیا اور اس کے بعد سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا مگر ان کی پولیس افسر بننے کی خواہش ادھوری رہ گئی۔اس کے بعد دل میں پولیس افسر بننے کی آس لیے انھوں نے سی ایس ایس کی دوبارہ تیاری شروع کر لی۔ عمر شیخ اس بار نمایاں پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور پھر یوں انھوں نے 20 ویں کامن گروپ سے اپنے پولیس کریئر کا آغاز کیا۔پولیس میں اہم عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ عمر شیخ موٹروے پولیس اور نیکٹا میں بطور ڈائریکٹر جنرل انسداد دہشت گردی بھی تعینات رہے ہیں۔ امریکہ کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے سائبر کرائم اور ڈیجیٹل فرانزک میں کورسز بھی کر چکے ہیں۔اس کے علاوہ لندن میں برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 سے ٹریننگ بھی حاصل کر چکے ہیں۔سی سی پی او لاہور تعینات ہونے سے پہلے عمر شیخ ڈی آئی جی سپیشل پروٹیکشن یونٹ تعینات تھے، جس کے ذمہ سی پیک کے منصوبوں پر تعینات چینی باشندوں کی حفاظت کرنا تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں