’جلاوطنی کے دوران RAW مجھے ہر ماہ کتنے لاکھ ادا کرتی تھی؟ دشمنوں کو پہچان کر پاکستان واپس آنے والے کالعدم تنظیم کے رہنما نے بڑاپول کھول دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) گلگت بلتستان کی کالعدم تنظیم بالاورستان نیشنل فرنٹ ( بی این ایف)بانی عبدالحمید خان نے 20سال کی جلاوطنی کے بعد 8فروری2019ءکو خود کو غیرمشروط طور پر پاکستانی سکیورٹی حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ اب انہوں نے اپنے ان جلاوطنی کے دنوں کے متعلق ایک تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا ہے۔ ڈیلی ڈان کے

مطابق 9ستمبر 2020ءکو انہوں نے گلگت بلتستان کے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کی جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ مئی 1999ءمیں نیپال کے وزٹ ویزے پر پاکستان سے فرار ہو کر نیپال پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہاں انہوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی راءکے ایک ایجنٹ سے معاملات طے کیے اور پھر راءسے ماہانہ 25ہزار یورو (تقریباً 49لاکھ 36ہزار روپے)لیتے رہے اور گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو پاکستان سے متنفر کرنے کی سازشوں میں مصروف رہے۔ انہوں نے کہا کہ بالآخر جب انہیں راءکے مذموم منصوبوں کے بارے میں آگاہی ہوئی تو انہوں نے خود کو پاکستانی سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا۔عبدالحمید خان کا کہنا تھا کہ وہ راءکے چیف کے ساتھ بھی ملاقات کر چکے ہیں اور راءکی خواہش تھی کہ عبدالحمید خان کے ذریعے گلگت بلتستان میں تخریب کاری کے لیے ایک نیٹ ورک منظم کیا جائے۔ راءاس مقصد کے لیے مقبوضہ کشمیر میں گلگت بلتستان کی سرحد کے قریب ایک ریڈیو سٹیشن بھی قائم کرنا چاہتی تھی تاکہ اس کے ذریعے پاکستان کے خلاف مسلسل منفی اور زہریلا پراپیگنڈا کیا جائے اور گلگت بلتستان کے لوگوں کو پاکستان سے متنفر کیا جائے۔عبدالحمید خان نے کہا کہ ”مجھے گمراہ کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے میں دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتا رہا۔ جب مجھے بھارت کے عزائم کا پتا چلا تو میں نے پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کر لیا۔“ عبدالحمید خان نے اس دوران پاکستان قوم اور گلگت بلتستان کے لوگوں سے معافی بھی مانگی۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”بھارت ہمارا مخلص کبھی نہیں ہو سکتا۔ ہمارا ملک پاکستان ہے کیونکہ یہاں ہمارے حقوق محفوظ ہیں۔ میں گلگت بلتستان کے نوجوان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے ملک کے ساتھ وفادار رہیں۔“واضح رہے کہ بالاورستان نیشنل فرنٹ حمید گروپ کا قیام 1995ءمیں عمل میں آیا تھا اور اس کے بانی عبدالحمید خان 1999ءسے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ انہوں نے مختلف ملکوں میں جلاوطنی کے سال گزارے اوراس دوران ان کا بھارت آنا جانا لگا رہا۔ بالاورستان نیشنل فرنٹ نواز خان ناجی اور عبدالحمید خان نے مل کر بنائی تھی تاہم بعد میں دونوں کے راستے الگ ہو گئے۔ نواز خان ناجی نے سیاست کا راستہ اپنا لیا جبکہ عبدالحمید خان انتشار کے راستے پر چل پڑا اور بالاورستان نیشنل فرنٹ حمید گروپ کے نام سے اپنی الگ تنظیم بنا لی جو اب نیکٹا کی طرف سے کالعدم قرار دی جا چکی ہے۔


اپنا تبصرہ بھیجیں