ایک خصوصی رپورٹ ملاحظہ کریں

لاہور (شیر سلطان ملک ) قارئین ایک خبر یہ ہے کہ اسلام آباد میں قاضی حسین احمد مرحوم کی صاحبزادی سمعیہ راحیل قاضی نے لاہور واقعہ کی متاثر ہ خاتون کے حق میں برقع پوش خواتین کی ایک ریلی نکالی ۔( اس ریلی کو ہمارے میڈیا نے زیادہ کوریج نہیں دی۔ )

دوسری خبر یہ ہے کہ اسی شہر میں معاشرے کی لبرل خواتین نے سانحہ موٹروے کی متاثرہ خاتون کے حق جلوس نکالا ۔ (اس جلوس کو میڈیا نے بھر پور کوریج دی ) یہ تضاد جان کر آپ کو ضرور اصل کہانی سمجھ آ جائے گی ۔ اچھا اب اسی معاملے کو ایک اور رخ سے دیکھتے ہیں ۔ شہر میں بینر لگا ہو کہ آج رات فلاں صاحب کے گھر محفل میلاد ہے ، سب کو شرکت کی دعوت ہے ۔ ( اس میلاد میں گنے چنے افراد ہی شریک ہونگے جن میں اکثریت ضعیف العمر لوگوں یا بچوں کی ہو گی ۔) اور اسی شہر میں ایک بینر لگایا جائے کہ آج رات پاکستان کی مشہور ڈانسر اپنے فن کا مظاہرہ کرے گی ،( یقین کریں مقررہ وقت سے پہلے اس جگہ ٹریفک بلاک ہو جائے گی لوگوں کا بے پناہ ہجوم اکٹھا ہو جائے گا ) آخر کیوں ۔۔۔۔۔؟؟؟ جناب والا جان لیں اور مان لیں کہ ہمارا رنگ برنگا معاشرہ بن چکا ہے ، آدھا تیتر آدھا بٹیر والا معاملہ ہے۔ ایسے کنفیوزڈ معاشرے کی وجہ سے ہی اب اس بات پر بحث شروع ہو چکی ہے موٹر وے پر خاتون کے ساتھ غلط کاری کرنے والوں کو سر عام تختہ دار پر لٹکایا جائے یا نہیں ۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر اس سرعام سزا کی مثال قائم کر دی گئی تو آئیندہ کوئی یہ قبییح جرم کرنے کی ہمت نہیں کرے گا ، جب کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا کرنا ہمارے ملک کو صدیوں پیچھے دھکیل کر

دنیا کی نظروں میں ہمیں ایران اور افغانستان کی صف میں شامل کر دے گا ۔ راقم کی ناقص رائے ذرا مختلف ہے ۔ موٹروے پر لٹیروں کا نشانہ بننے والی خاتون کے کیس میں مجرموں کو تختہ دار پر چڑھانے کی سزا اول تو ہو گی نہیں کیونکہ پاکستان میں مال و دولت چھین لینے اور اس غلط کاری کی سزا موت نہیں ۔۔۔ لیکن بالفرض اگر عوامی دباؤ کے پیش نظر عدالت کوئی ایسی سزا سنا بھی دیتی ہے اور اس پر سر عام عملدرآمد بھی ہو جاتا ہے تو اس آدھے تیتر اور آدھے بٹیر معاشرے میں چند ہزار لوگ ہی اس سے عبرت پکڑیں گے، باقیوں کے لیے شاید یہ ایک تماشا ہی ہو گا کیونکہ ہم یوٹیوب فیس بک اور روزمرہ زندگی میں اس طرح کے سینکڑوں مناظر دیکھ چکے ہیں، یہ منظر ہمارے لیے نیا نہیں ہو گا ۔ خبریں یہ بھی آرہی ہیں کہ حکومت ایسے کیسز کے ملزموں کو نامرد بنانے پر غور کر رہی ہے اور قوی امکان ہے کہ اس کا فیصلہ ہو جائے گا ۔ کیا قصور کی بے قصور زینب کے ملزم کو تختہ دار پر لٹکانے کے بعد اس شرمناک فعل میں کوئی کمی آئی ؟ جناب : جان لیں اور مان لیں کہ ہمارے گھروں گلیوں محلوں اور شہروں کے ماحول کو درست کرنا ہی ہمارے بچوں اور ہماری خواتین کو محفوظ رکھ سکتا ہے ۔ یورپ ، امریکہ و برطانیہ کی اچھی چیزوں کی پیروی کرنے کی بجائے ہم ان کی غلط چیزوں کو چمٹ گئے ، موبائل ، کمپیوٹر ، فیس بک ، سی سی ٹی وی کیمرے ، یوٹیوب ، ٹک ٹاک وغیرہ ۔۔۔۔ کونسی ایسی چیز ہے جس کا ہم نے مثبت استعمال کر کے ملک و معاشرہ کا بھلا کیا ہے ۔ ہر چیز کے غلط استعمال اور اسکے نقصانات پر مبنی خبریں ہر روز ہمارے سامنے آتی ہیں۔ جان لیں اور مان لیں کہ غیر اخلاقی مواد سے معاشرہ کو پاک کرنے ، ماد پدرآزادی کو ترک کرنے اور جہالت کو قابل نفرت سمجھنے سے ہی ہمارے بچے بچیاں اور خواتین اس شرمناک فعل سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں