الحکم للہ ، بالملک للہ : طالبان نے افغانستان میں اسلامی نظام حکومت نافذ کرنے کا اعلان کردیا

دوحہ(ویب ڈیسک) قطر میں جاری بین الاافغان مذاکرات میں افغان طالبان نے اسلامی نظام اور مزید سات سو سینتیس قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے امید ہے افغان مہاجرین جلد اپنے وطن لوٹ جائیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ

مائیک پومپیو نے کہا امریکا پرامن افغانستان کی حمایت کرتا ہے۔دوحہ میں بین الاافغان مذاکرات کا پہلا مرحلہ جاری ہے، افغان حکومت کے وفدکے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے ملک کے تمام حصوں میں انسانی بنیادوں پر امن کے قیام کامطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن معاہدے کے بعد بھی بین الاقوامی معاونت کی ضرورت ہو گی۔مذاکرات میں افغان طالبان نے اسلامی نظام اور مزید سات سو سینتیس قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر دیا۔۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان حکومت اور طالبان مزاحمت کاروں کے وفود کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن مذاکرات جاری ہیں۔اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے متحارب فریقوں پر زوردیا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ایک جامع امن معاہدہ طے کریں۔ البتہ انھوں نے یہ بات تسلیم کی کہ ابھی بہت سے چیلنجز درپیش ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ آپ کا سیاسی نظام آپ کا اپنا انتخاب کردہ ہوگا اور اس کو آپ نے خود ہی بنانا ہے۔ہم اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ تمام افغانوں کے حقوق کے تحفظ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ بد امنی کے چکر کو توڑیں۔مائیک پومپیو نے طالبان اور حکومت کے وفود کو خبردار کیا کہ امریکا کی جانب سے مستقبل میں افغانستان کی مالی امداد کا انحصار ان کے انتخاب اور عمل پر ہوگا۔امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے صحافیوں سے گفتگو میں مذاکرات میں ترجیحات کی وضاحت کی کہ پہلے بدامنی کی روک تھام ایک بڑی شرط تھی لیکن اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو مستقبل میں کانگریس کی منظور کردہ کسی بھی فنڈنگ میں اہمیت حاصل ہوگی اور اب خالی چیک نہیں دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں