پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل پائے گا یا نہیں ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) حالیہ ہفتوں میں پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے اپنا کیس تیار کرنے میں مصروف ہے۔جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں شامل کر لیا تھا جس کا مطلب ہے کہ پاکستان پر یہ

جاننے کے لیے مسلسل نظر رکھی جائے گی کہ وہ شر پسند عناصر کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے کیا عملی اقدامات کر رہا ہے۔ایف اے ٹی ایف ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام سنہ 1989 میں عمل میں آیا تھا۔اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو شر پسندی اور کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔پاکستان کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے اکتوبر 2019 تک کا وقت دیا گیا تھا جس میں بعدازاں چار مہینے کی توسیع کر دی گئی تھی۔ پاکستان نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ دی گئی اس مہلت کے دوران ضروری قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کے لیے ایک موثر نظام تیار کر لے گا۔فروری 2020 میں ایف اے ٹی ایف نے یہ تسلیم کیا تھا کہ پاکستان نے ٹاسک فورس کی جانب سے دیے گئے 27 مطالبات میں سے 14 پر عملدرآمد کیا ہے، تاہم تنظیم نے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کو گرے لسٹ ہی میں رکھا کہ اس حوالے سے کئی شعبوں میں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔اب 14 سے 21 ستمبر کو ہونے والی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ باقی 13 معاملات پر پاکستان نے کتنی پیش رفت کی ہے۔اس کے بعد اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ ہو گا کہ پاکستان کو گرے لسٹ ہی میں رکھا جائے یا وائٹ لسٹ میں شامل کر لیا جائے، یعنی پاکستان کو ایک ایسا ملک قرار دے دیا جائے جہاں منی لانڈرنگ اور شرپسندی کی مالی معاونت نہیں ہوتی یا پھر شمالی کوریا اور ایران کی طرح بلیک لسٹ میں شامل کر کے پاکستان پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دی جائیں۔اس قانون سازی پر اتفاقِ رائے کے لیے حکومتی اور اپوزیشن کے 24 پارلیمانی ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔اپوزیشن کی مدد سے اب تک ان آٹھ میں سے چھ بل منظور کرائے جا چکے ہیں۔پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن میں اس طرح کا اتفاقِ رائے کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس کی ایک وجہ ملک کی طاقت ور فوج کی جانب سے دباؤ بھی ہے۔ایف اے ٹی ایف کے ایکش پلان میں پاکستان سے کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیموں اور ان سے منسلک لوگوں کو عدالتوں سے سزائیں دلوائی جائیں اور ان کی منقولہ و غیرمنقولہ جائیدادیں ضبط کی جائیں۔بعض مبصرین کے خیال میں ایسا کئی مرتبہ ہوا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس سے پہلے پاکستان میں سزائیں دی گئی ہوں اور پابندیاں عائد کی گئی ہوں۔اب تک ترکی، ملائیشیا اور چین کی حمایت نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے باہر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔


اپنا تبصرہ بھیجیں