پاکستان کا وہ سابق آرمی چیف جسکا پاکستان میں یا کہیں باہر ذاتی گھر بھی نہیں تھا اور جس نے اپنے باورچی کو اپنی ہی تدفین کے لیے 2000 روپے امانتاً دے رکھے تھے ؟ پاک فوج سے محبت بڑھا دینے والے حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) بھارت نے اس دفعہ صرف فوج کے لوئر رینکس پر ہی نہیں بلکہ فوجی آفیسرز اور خصوصاً فوجی جنرلز کو اپنے پروپیگنڈے کا ہدف بنایا ہے۔ اس میں پہلا ہدف تو یہ ہے کہ سینئر افسران اور عوام میں مختلف اعتراضات کے ذریعے پھوٹ بلکہ نفرت پیدا کی جارہی ہے۔

نامور کالم نگار سکندر خان بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔بقول بھارتی پروپیگنڈہ پاکستان آرمی کے جنرلز کو’’ سنی پنجابی جنرلز ‘‘ کا نام دے رکھا ہے۔ فوج میں مذہبی منافرت پھیلا ئی جا رہی ہے ۔ بھارتی فوج کی مزید گھٹیا حرکت پاکستانی فوج کے جنرلز پر کرپشن کے الزامات لگا کر انہیں بدنام کرنا ہے۔ مثلاً پاکستانی فوج کے جنرلز نے فوج سے پیسے کما کر باہر کے ممالک میں جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یہ لوگ یہاں جائیداد بیچ کر باہر چلے جاتے ہیں۔ خصوصاً جو چیف کے عہدے سے ریٹائر ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو ریٹائرمنٹ کے وقت بہت سی مراعات ملتی ہیں جو دنیا میں اور کہیں نہیں ملتیں۔ مثلاً ایک جنرل کو ریٹائرمنٹ کے وقت 90ایکڑ زمین ملی اسی طرح رہنے کے لئے بنگلہ اور گاڑی،سٹاف اور ڈرائیور وغیرہ جبکہ ان کے مقابلے میں بھارتی جنرلز آرمی چیف کو اور کچھ نہیں ملتا۔ مثال میں بتایا گیاکہ ایک بھارتی چیف ریٹائرمنٹ کے بعد گڑ گائوں میں تین کمروں کے مکان میں رہتا ہے۔ ایک پاکستانی ریٹائرڈ جنرل پر الزام لگایا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے وقت اسکی ستر کروڑ کی پراپرٹی پاکستان میں ہے جبکہ امریکہ میں اسکے 150ہوٹلوں کی چین ہے۔پاکستان، پاکستان فوج اور پاکستان فوج کے جنرلز کو بد نام کرنے میں ویسے تو بھارتی سیاستدان اور جرنلسٹ سب شامل ہیں لیکن بھارتی فوج کا ریٹائرڈ میجر گوروآریا پیش پیش ہے۔ میجر صاحب ہم نے آپ کی ہرزہ سرائی سن لی ہے ۔آپ کو زیادہ بڑھکیں مارنے کی ضرورت نہیں۔ ہم آپ کی بہادر سینا اور آپ کے شیر دل جرنیلوں کو اچھی طرح سے جانتے ہیں۔

جو اسوقت چین کے سامنے بہادری کے کارنامے رقم کر رہے ہیں۔آپ کے جنرلز اتنے ایماندار ہیں کہ کنٹونمنٹ کی زمینیں ،یونٹوں کے ہتھیار اور جوانوں کا راشن تک بیچ کر کھا جاتے ہیں۔ اس لئے آئندہ منہ سنبھال کر بات کریں۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ ہمارا ایک کمانڈر انچیف ایسا بھی گزرا ہے جس کا پاکستان اور پاکستان سے باہر کوئی مکان نہیں تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی میس کے دو کمروں میں گزار دی اور وہیں وفات پائی ۔اس نے اپنے ڈرائیور کو دو ہزار اپنی تدفین کے لئے دے رکھے تھے جن سے تدفین کی گئی۔ اسکی موت کے بعد اس کی جائیداد چیک کی گئی تو پتہ چلا کہ اسکا کوئی بنک اکائونٹ ہی نہیں۔ کمرے سے کُل پانچ جوڑے کپڑے ،اڑھائی سو کتب اور ایک سوزوکی کار ملی۔ سوزوکی کار تین لاکھ میں بکی جس میں سے آدھی رقم انکی سویڈش بیوہ کو دئیے گئے اور باقی ملازموں اور الشفا ہسپتال کو دئیے گئے اور بقول آپ کے اگر ہم چین کے سامنے دم ہلاتے ہیں تو آپ امریکہ کے سامنے نہ صرف دم ہلاتے ہیں بلکہ پائوں بھی چاٹتے ہیں۔ اگر آپ مستقبل میں اپنی عزت کرانا چاہتے ہیں تو پہلے دوسروں کی عزت کرنا سیکھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں