جے ایف 17 میں وہ خاص بات ہے جو رافیل میں کہاں ۔۔۔۔؟؟پاکستانی لڑاکا طیارے کی وہ ایک خوبی جو تباہ کن ہے اور بھارت کے فرانسیسی ساختہ رافیل میں موجود نہیں ، ایک شاندار معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) بالاکوٹ واقعے کے بعد پاکستان نے انڈیا کے خلاف فضائی آپریشن میں جے ایف 17 تھنڈر اور ایف 16 بھی استعمال کیے تھے۔ ان طیاروں کی خصوصیات جاننے سے پہلے ایک نظر فرانس سے آئے چھ رفال طیاروں پر۔فرانس کی حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت انڈیا کو

کل 36 رفال طیارے ملنے ہیں جن میں سے چھ طیارے انڈیا پہنچ چکے ہیں۔نامور صحافی اعظم خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔رفال جوہری میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں دو طرح کے میزائل نصب ہو سکتے ہیں، ایک کا مار کرنے کا فاصلہ 150 کلومیٹر جبکہ دوسرے کا تقریباً 300 کلومیٹر ہے۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس ہونے کی صلاحیت رکھنے والا رفال طیارہ فضا میں 150 کلومیٹر تک میزائل داغ سکتا ہے جبکہ فضا سے زمین تک مار کرنے کی اس کی صلاحیت 300 کلومیٹر تک ہے۔یہ انڈین فضائیہ کی جانب سے استعمال ہونے والے میراج 2000 کی جدید شکل ہے اور انڈین ایئر فورس کے پاس اس وقت 51 میراج 2000 طیارے ہیں۔رفال بنانے والی کمپنی داسو ایوی ایشن کے مطابق رفال کی حد رفتار 2020 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔طیارے کی اونچائی 5.30 میٹر اور لمبائی 15.30 میٹر ہے اور اس طیارے میں فضا میں بھی ایندھن بھرا جا سکتا ہے۔ رفال کو اب تک افغانستان، لیبیا، مالی، عراق اور شام جیسے ممالک میں ہونے والی کارروائیوں میں استعمال کیا جا چکا ہے۔رفال اوپر، نیچے، دائیں اور بائیں ہر طرف نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یعنی اس کی وِزیبلٹی 360 ڈگری ہے۔کئی طرح کی خوبیوں سے لیس رفال کو بین الاقوامی معاہدوں کے سبب جوہری اسلحے سے لیس نہیں کیا گیا تاہم کئی ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا میراج 2000 کی طرح رفال کو بھی اپنی ضرورت کے مطابق ڈھال لے گا۔انڈین فضائیہ کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں رفال کو انبالہ ایئر بیس پر لینڈ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

انڈین فضائیہ کا کہنا ہے کہ ’رفال ایک بہترین اور باصلاحیت جنگی طیارہ ہے۔‘سابق وزیر دفاع منوہر پاریکھ کا کہنا تھا کہ ’رفال کا نشانہ کبھی نہیں چوکتا۔‘بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انڈین دفاعی تجزیہ کار معروف رضا کہتے ہیں رفال کی خصوصیات کی وجہ سے اسے ’فورس ملٹی پلایئر‘ کہا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رفال کی فلائنگ رینج عام طیاروں سے کہیں زیادہ ہے۔رضا بتاتے ہیں ’اس کی آپریشنل صلاحیت 65 سے 70 فیصد تک ہے جبکہ جنگی طیارے سخوئی کی آپریشنل صلاحیت 50 فیصد تک ہے۔ ’یہ پہاڑی علاقوں اور چھوٹے مقامات پر اُتر سکتا ہے اس کے علاوہ سمندر میں چلتے ہوئے طیارہ بردار بحری جہاز پر بھی اتر سکتا ہے۔‘جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارہ پاکستان کے لیے اس وجہ سے بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان اسے خود تیار کرتا ہے۔پاکستان نے چین کی مدد سے ہی ان طیاروں کو بنانے کی صلاحیت حاصل کی ہے اور ماہرین کے مطابق یہ طیارہ ایک ہمہ جہت، کم وزن، فورتھ جنریشن ملٹی رول ایئر کرافٹ ہے۔اس طیارے کی تیاری، اپ گریڈیشن اور ’اوورہالنگ‘ کی سہولیات بھی ملک کے اندر ہی دستیاب ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اس طیارے کی تیاری کے مراحل کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کا محتاج نہیں ہے۔عسکری حکام کے مطابق یہ طیارہ دنیا بھر میں کئی اہم شوز میں بھی پذیرائی حاصل کر چکا ہے اور دنیا نے اس کی بہت اچھی اسسمینٹ کی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر بڑے شو میں جے ایف 17 کے لیے دعوت نامہ ضرور آتا ہے۔

یہ قصہ سنہ 1995 سے شروع ہوتا ہے جب پاکستان اور چین نے جے ایف 17 سے متعلق ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔اس طیارے کا پہلا آزمائشی ماڈل سنہ 2003 میں تیار ہوا اور پاکستانی فضائیہ نے سنہ 2010 میں جے ایف-17 تھنڈر کو پہلی مرتبہ اپنے فضائی بیڑے میں شامل کیا۔اس منصوبے میں مِگ طیارے بنانے والی روسی کمپنی میکویان نے بھی شمولیت اختیار کر لی۔ پاکستان فضائیہ نے جے ایف-17 تھنڈر کو مدت پوری کرنے والے میراج، ایف 7 اور اے 5 طیاروں کی تبدیلی کے پروگرام کے تحت ڈیزائن کیا۔دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق جے ایف تھنڈر طیارہ ایف-16 فیلکن کی طرح ہلکے وزن کے ساتھ ساتھ تمام تر موسمی حالات میں زمین اور فضائی اہداف کو نشانہ بنانے والا ہمہ جہت طیارہ ہے جو دور سے ہی اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل سے لیس ہے۔جے ایف-17 تھنڈر نے اسی صلاحیت کی بدولت بی وی آر (Beyond Visual Range) میزائل سے بالاکوٹ واقعے کے بعد انڈین فضائیہ کے مگ کو گرایا تو اس کے ساتھ ہی جے ایف-17 تھنڈر کو بھی خوب پذیرائی ملی۔جے ایف-17 تھنڈر طیاروں میں وہ جدید ریڈار نصب ہے جو رفال کی بھی بڑی خوبی گنی جاتی ہے۔ یہ طیارا ہدف کو لاک کر کے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کی رینج 150 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے اور یہ میزائل اپنے ہدف کا بالکل ایسے ہی پیچھا کرتا ہے جیسے ہالی وڈ کی متعدد فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔جے ایف-17 تھنڈر زمین پر حریف کی نگرانی اور فضائی لڑائی کے ساتھ ساتھ زمینی حملے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ طیارہ فضا سے زمین، فضا سے فضا اور فضا سے سطحِ آب پر اٹیک کرنے والے میزائل سسٹم کے علاوہ دیگر ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔پاکستان کی طرف سے مگ 21 گرانے کے واقعے کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران انڈین فضائیہ کے ایئر وائس مارشل کپور نے اس بات کا دعوٰی کیا تھا کہ پاکستان نے ایئر ٹو ایئر میزائل استعمال کیا ہے اور یہ ٹیکنالوجی صرف پاکستانی ایف-16 طیاروں میں موجود ہے۔پاکستان کا موقف ہے کہ یہ ہدف جے ایف 17 کی مدد سے نشانہ بنایا گیا تھا۔پاکستانی فضائیہ کے ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ شہزاد چوہدری، پاکستان کے موقف کو درست مانتے ہوئے کہتے ہیں کہ جے ایف 17 ایک ایسا طیارہ ہے جو ملکی ضروریات کو مد نظر رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔رفال اور جے ایف 17 کے درمیان موازنے پر شہزاد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہر طیارہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے، اس کی رفتار، حجم یا کسی اور پہلو سے موازنہ کرنا درست نہیں ہے۔ان کے مطابق ’یہ ایسا ہی ہے کہ آپ کار اور ڈمپر کا موازنہ شروع کر دیں جبکہ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کس چیز کو کس مقصد کے لیے استعمال میں لایا جاتا ہے۔‘ان کے نزدیک اب دیکھنا یہ ہو گا کہ وہ قوت اور صلاحیت کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں