اُمت مسلمہ کیلئے پریشان کُن خبر۔!! اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ، 2 اسلامی ممالک نے بحرین کے فیصلے کی حمایت کر دی

تل ابیب (ویب ڈیسک) امن معاہدے پر اسرائیل، بحرین میں شادیانے جبکہ امارات، مصر نے ’’تھپکی‘‘ دیدی۔ایران، ترکی نے ناراضی کا اظہا رکرتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر کاری ضرب قرار دیدیا۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اسرائیل اور بحرین کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے کو امن کے نئے دور کا آغاز قرار دیا ہے۔

انہوںنے توقع ظاہر کی کہ جلد ہی دوسرے عرب ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ تعلقات استوار کریں گے۔ایک بیان میں بنجمن نیتن یاھو نے اسرائیلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے ہم وطنو! میں آپ کو یہ بتاتے ہوئے خوش ہوں کہ ہم ایک اور عرب ملک بحرین کے ساتھ ایک اور امن معاہدے پر پہنچے ہیں۔ یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تاریخی امن میں مزید اضافہ ہے۔ ۔بحرین کے فرمانروا حمد بن عیسٰی آل خلیفہ نے اسرائیل سے تعلقات کے قیام کے اعلان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قراردادوں کی روشنی میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بھی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم عالمی قراردادوں کی روشنی میں فلسطین اسرائیل تنازع کا دو ریاستی حل چاہتے ہیں۔ انہوںنے خطے میں امن عمل کوآگے بڑھانے کے لیے امریکہ کے کردار کو سراہا اور کہا کہ اسرائیل اورعرب ملکوں ک ے درمیان تعلقات کے قیام سے مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پرامن مساعی کوآگے بڑھانے میں مدد ملے گی اور خطے میںمعاشی خوش حالی آئے گی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی نے اسرائیل کے ساتھ طے پائے امن معاہدے کو تاریخی پیش رفت قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ امن معاہدہ مشرق وسطیٰ میں حقیقی اور دیر پا امن کے قیام میں مدد گار ثابت ہوگا۔ بحرینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم فلسطینیوں اوراسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور بین الاقوامی قراردادوں اور عرب امن فارمولے کی روشنی میں مسئلہ فلسطین کے حل کے خواہاں ہیں۔

برادر فلسطینی قوم کو اس کے حقوق کی ضمانت کی فراہمی ضروری ہے۔ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ خطے میں امن کے مواقع پیدا کرے گا اور فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جاری دیرینہ کشمکش کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی۔بحرین اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے اعلان کو عرب امن فارمولے کے اہداف کا حصہ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی نے کہا کہ اس طرح کے معاہدوں سے خطے میں دیر پر امن کو فروغ ملے گا۔ اسرائیل نے مزید فلسطینی اراضی کے الحاق سے دست برداری اور مشرق وسطیٰ میں امن کیلیے مزید اقدامات کا اعلان کیا ہے۔بحرین کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل الشیخ راشد بن عبد اللہ آل خلیفہ نے کہا ہے کہ مملکت بحرین اور ریاست اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کا اعلان ایک خود مختار اقدام ہے جو منامہ کے جرات مندانہ موقف کی نمائندگی کرتا ہے۔ بحرین امن و سلامتی کا وطن ہے ، دوسرے ملکوں کے ساتھ بقائے باہمی اور رواداری کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملکوں کے لیے امن کا گہوارہ بننا چاہتا ہے۔ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے خلیجی ریاست بحرین اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔انہوںنے بحرینی فرمانروا حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور اس اہم پیش رفت پرانہیں مبارک باد پیش کی ۔ متحدہ عرب امارات نے خلیجی ملک بحرین اور اسرائیل کے درمیان دو طرفہ امن معاہدے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ۔ اس اقدام سے خطے اور پوری دنیا میں امن کیقیام کے لیے ماحول سازگار بنانے میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب ایران نے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر بحرین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب دوحہ بھی تل ابیب کے جرائم میں حصہ دار بن گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے بحرین کے حکمرن اب سے آگے صیہونی ریاست کے جرائم کے حصہ دار ہوں گے، جو علاقے اور عالم اسلام کی سلامتی کے لیے ایک مسلسل خطرہ ہے۔ترکی نے بحرین اسرائیل سفارتی تعلقات کی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں امن و استحکام کے قیام کا واحد راستہ مسئلہ فلسطین کے عالمی قوانین اور اقوام ِ متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں کسی منصفانہ حل سے گزرتا ہے۔ بحرین کی جانب سے بھی متحدہ عرب امارات کا تعاقب کرتے ہوئے عرب امن کوشش اور اسلامی تعاون تنظیم کے دائرہ کار میں ضمانتوں کے بر خلاف اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کا فیصلہ باعثِ خدشات ہے جس کی ترکی شدید مذمت کرتا ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام مسئلہ فلسطین کے دفاعی امور پر ایک کاری ضرب کے مترادف ہے، جو کہ اسرائیل کی فلسطین کے خلاف غیر قانونی کاروائیوں اور فلسطینی سرزمین پر اس کے قبضے کو دائمی حیثیت دلانے کی کوششوں کے معاملے میں اس ملک کے حوصلے مزید بلند کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں