تاریخ کا واحد کیس جس میں متاثرہ خاتون نے ملزمان کی شناخت ہی نہیں کی لیکن بھاری انعام کا اعلان کر دیا گیا، سابق آئی جی موٹر وے کا دعویٰ

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) موٹر وے پولیس کے سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے شناخت سے قبل ہی پچیس پچیس لاکھ کے انعام کا اعلان کر دیا گیا، انہوں نے کہاکہ تاریخ کا واحد کیس ہے جس میں متاثرہ خاتون کی شناخت کے بغیر ہی ملزموں کی گرفتاری کے لئے انعام مقرر کر دیا گیا ہے، ملزمان کی شناخت نہیں ہوئی لیکن پچیس پچیس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ٹیم کی جانب سے یہ پریس کانفرنس کسی

دباؤ کی وجہ سے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملزمان کی شناخت متاثرہ خاتون پتہ نہیں کرتی ہیں یا نہیں لیکن پہلے ہی انعام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ موٹروے پر خاتون سے شرمناک واقعہ کے ملزمان کا سراغ لگا لیا گیا ہے، 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں،مرکزی ملزم عابد علی فورٹ عباس جبکہ ساتھی وقار الحسن شیخوپورہ کا رہائشی ہے، ملزمان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لئے 25, 25لاکھ انعام رکھاہے، ملزمان کی جلد گرفتاری کا امکان ہے، واقعات کی روک تھام کے لئے 91کلومیٹر کے علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی، سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو متنازعہ بیان پر شوکاز نوٹس جاری اور سات روز میں جواب طلب کر لیا گیا ہے، واقعے کی تحقیقات سائنسی بنیادوں پر جاری، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ کوشش کر رہے ہیں۔ ہفتے کے روز لاہور میں صوبائی وزرا اور آئی جی پنجاب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی عثمان بزدار نے کہا کہ موٹروے واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم۔ 72گھنٹے سے بھی کم وقت میں ملزمان تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود متاثرہ خاتون سے ٹیلی فون پر بات کی اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور ملزمان کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لئے 25, 25لاکھ روپے انعام مقرر کیا ہے جبکہ اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ افسوسناک واقعہ کی سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کی گئی ہیں۔ اسی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پنجاب انعام غنی نے کہا کہ سائنٹفک تحقیقات میں وقت لگتا ہے۔ واقعہ کے فوراً بعد مختلف تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی تھیں۔ ملزم عابد علی کا تعلق فورٹ عباس سے ہے ملزم عابد علی کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد سے میچ کر گیا ہے۔ گزشتہ رات 12بجے ملزم کے ڈی این اے ٹیسٹ کی تصدیق ہوئی۔ ملزم عابد علی تک پہنچے تو اس کا شناختی کارڈ حاصل کیا۔ اس کے ٹیلی فون ریکارڈ کی مدد سے اس کے ساتھی تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ وقوعہ سے لے کر ملزمان کو ٹریس کرنے تک پولیس نے انتہائی جدید طریقوں سے تحقیقات کیں۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ ملزم کے پاس موبائل سمیں تھیں جن میں سے ایک اس کے اپنے نام پر تھی۔ دوسرا ملزم قلعہ ستار شاہ ضلع شیخوپورہ کا رہائشی ہے۔ تمام خفیہ ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آپس میں رابطے کے ساتھ ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔ ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا عوام کی مدد سے جلد وہ قانون کی گرفت میں ہونگے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ موٹروے پولیس کی جائے وقوعہ پر عدم موجودگی کے باعث خاتون کو بروقت مدد نہیں پہنچ سکی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر 91کلومیٹر کے علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہو سکیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان پر انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا ہے اور سات روز میں جواب طلب کیا ہے۔ آئی جی پنجاب انعام غنی نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے حکومتی وژن کے مطابق ہر واقعے کی ایف آر درج کی جا رہی ہے اس لئے جرائم کی شرح میں اضافے کا تاثر سامنے آیا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر واقعے کی ایف آئی آر درج کی جائیگی اور کسی سائل کی اندراج مقدمہ کی درخواست رد یا زیرالتواء نہیں رکھی جائیگی تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی زیادہ سے زیادہ معلومات قانون نافذکرنے والے اداروں کے پاس جمع ہو سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں