دنیا بدل کر رکھ دینے والی اس کارروائی کا اصل مقصد کیا تھا ؟ سلیم صافی کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نیویارک کے ٹوئن ٹاورز اور پینٹاگان سے جہازوں کے ٹکرائے جانے کے واقعے کو آج انیس سال ہو گئے۔ تب افغانستان کے حکمران اور taliban کے امیرالمومنین ملا محمد عمر کو اندازہ نہیں تھا کہ alqaeda کیا کرنے جارہی ہے لیکن اسامہ اور ان کے قریبی ساتھی جانتے تھے

کہ اس کے بعد نہ صرف امریکہ افغانستان میں آئے گا بلکہ پوری دنیا بدل جائے گی۔نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔احمد یحییٰ گدان جو اس وقت القاعدہ کے آڈیو وڈیو سیکشن کے انچارج تھے، نے ایک وڈیو میں واضح کیا کہ اسامہ نے تفصیلات چھپا رکھی تھیں لیکن نائن الیون سے کچھ عرصہ قبل اپنے ساتھیوں کو قندھار میں جمع کرکے بتایا تھا کہ وہ امریکہ کے خلاف ایک ایسی کارروائی کرنے والے ہیں کہ اس کے بعد وہ ضرور افغانستان پر دھاوا بولے گا۔ جیسا کہ بن لادن نے سوچا تھا، ویسا ہی ہوا۔ نائن الیون کے واقعات نے پوری دنیا یوں بدل دی لیکن سب سے زیادہ متاثر افغانستان اور پاکستان ہوئے۔امریکہ، پاکستان سے دور جاکر بھارت کا اسٹرٹیجک اتحادی بننے والا تھا لیکن نائن الیون کی وجہ سے امریکہ کو ایک بار پھر کچھ وقت کے لئے پاکستان سے رجوع کرنا پڑا تاہم اس کا فائدہ پاکستان کو نہیں بلکہ پرویز مشرف کی ذات کو ہوا، اُن کا اقتدار طویل ہو گیا۔ دوسرا نقصان پاکستان کو بدامنی کی صورت میں ہوا جس کے نتیجے میں ستر ہزار سے زائد پاکستانی لقمہ اجل بنے۔ جنرل مشرف نے امریکہ کا ساتھ دے کر پاکستان کے اندر jihadis and alqaeda جیسی تنظیموں کو برہم کیا لیکن دوسری طرف امریکہ اور افغان حکومت کا اعتماد بھی پوری طرح حاصل نہ کرسکے۔جب افغانستان کو سنبھالے بغیر امریکہ عراق میں جا گھسا تو ایران سمیت علاقے کے ممالک عدم تحفظ کا شکار ہوگئے۔ امریکہ نے جب پاکستان کے تحفظات کے باوجود بھارت کو افغانستان میں جگہ دی

تو جواب میں پرویز مشرف نے بھی افغان Taliban سے متعلق پالیسی بدل دی جس کی وجہ سے پاکستان پر ڈبل گیم کا الزام لگنے لگا۔اسامہ کے پاکستان سے برآمد ہونے کے واقعہ نے تو پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرکے رکھ دیا۔ دوسری طرف افغان پہلے سے دو دہائیوں سے لڑائی کا شکار رہے تھے، نائن الیون کے بعد انہیں ایک اور تباہ کن لڑائی کا سامنا کرنا پڑا جسے آج انیس سال پورے ہوگئے۔ آج انیس سال بعد بالآخر امریکہ اور Taliban کی ڈیل ہو گئی جسے طالبان اپنی جیت قرار دے رہے ہیں اور امریکی اپنی لیکن حقیقت میں دونوں اپنی اپنی جگہ ہار گئے ہیں اور دونوں اپنے اپنے موقف سے پسپا ہو گئے ہیں۔تب امریکی Taliban سے بات کرنے کو تیار نہیں تھے اور ان کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر مصر تھے لیکن انیس سال تک لاکھوں انسانوں کی جان لینت اور اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد Taliban کے وجود کو تسلیم کرکے امریکہ نے ان کے ساتھ مذاکرات کئے۔دوسری طرف اس وقت Taliban alqaeda سے تعلق توڑنے پر تیار نہیں تھے لیکن آج انہوں نے امریکہ کو تحریری ضمانت دے دی کہ وہ alqaedaسے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے لیکن امریکہ اور Taliban کی ڈیل کے باوجود افغانستان میں امن اب بھی نہیں آیا۔ امریکہ اور Taliban کی لڑائی ختم ہوئی لیکن بین الافغان لڑائی بدستور جاری ہے تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ انیس سال بعد افغان حکومت اور taliban ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرکے کل سے قطر میں مذاکرات

کا آغاز کررہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ فریقین کے موقف میں بعدالمشرقین ہے۔ سردست Taliban کا اصرار یہ ہے کہ ان کی امارت اسلامی بحال کی جائے جس میں وہ افغانستان کے سیاسی نظام میں شامل عناصر کو حصہ دار بنا دیں گے۔ دوسری طرف افغان حکومت کا موقف یہ ہے کہ taliban کو افغانستان کے آئین کے تحت سیاسی نظام کا حصہ بننا ہوگا۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ افغان حکومت درون خانہ امریکہ اور Taliban کی ڈیل پر خوش نہیں ہے لیکن ظاہر ہے کہ وہ امریکہ کے سامنے کھڑی نہیں ہو سکتی تھی۔ افغان حکومت میں ایسے عناصر بھی شامل ہیں جو دل سے Taliban کے ساتھ مفاہمت نہیں چاہتے کیونکہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہے کہ taliban آکر سیاسی نظام میں ان کی جگہ لیں گے۔ اسی طرح ان عناصر کے ذہن میں یہ بات بھی بیٹھی ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن ہار گئے تو امریکی افغانستان سے انخلا کا اپنا ارادہ بدل سکتے ہیں چنانچہ وہ تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں اور مذاکرات کے دوران بھی ایسی شرائط رکھیں گے کہ جو taliban کے لئے قابلِ قبول نہ ہوں۔ دوسری طرف Taliban کے ہاں بھی مذاکرت کی کامیابی کے لئے کوئی جلدی نہیں کیونکہ وہاں ایک سوچ یہ پائی جاتی ہے کہ اشرف غنی کی حکومت روز بروز کمزور ہورہی ہے اور کچھ وقت گزرنے کے بعد وہ (taliban) دوبارہ کابل پر قابض ہوکر ماضی کی طرح کی آئینی قدغنوں سے آزاد اپنی مرضی کی حکومت بناسکیں گے حالانکہ یہ

دونوں کی غلط فہمی ہے۔ ان دونوں فریقوں اور افغانستان کا بھلا اسی میں ہے کہ وہ لچک دکھا کر مفاہمت کا راستہ نکا لیں۔ ادھر جوں جوں افغانستان میں taliban اور افغان حکومت کے مذاکرات کا وقت قریب آرہا تھا توں توں پاکستان کے لئے ٹی ٹی پی کا خطرہ بڑھتا جارہا تھا۔ تحریک taliban کے مختلف دھڑے دوبارہ اکٹھے ہو گئے اور مفتی نورولی کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ اس کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں میں ان کی کارروائیاں بھی ایک بار پھر بڑھنے لگی ہیں۔ پاکستان افغانستان کے قضیے کے سیاسی حل میں تو بھرپور کردار ادا کررہا ہے لیکن بدقسمتی سے ملک کے اندر ٹی ٹی پی کے مسئلے کے سیاسی حل کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا حالانکہ یہی وقت ہے کہ ٹی ٹی پی اور ہر طرح کے عسکریت پسندوں کے ساتھ قضیے کا سیاسی حل نکالا جائے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر افغان حکومت اورافغان Taliban کو مجبور کیا جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ٹی ٹی پی کے مسئلے کے حل میں تعاون کریں۔ پاکستانی حکام کو یقین ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغان حکومت کی طرف سے سپورٹ مل رہی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان taliban، ٹی ٹی پی کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے بلکہ نظریاتی حوالوں سے ٹی ٹی پی اس کی فرنچائز ہے۔یوں پاکستان کو جہاں افغان حکومت اور taliban کے مفاہمتی عمل میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے، وہاں اسے اپنے مسئلے کے دائمی حل کا بھی سوچنا چاہئے اور اس سلسلے میں افغان حکومت اور افغان taliban سے اسی طرح تعاون حاصل کرنا چاہئےجس طرح کہ پاکستان ان کے ساتھ کررہاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں