عمران خان وزیراعظم بننے سے کئی سال پہلے 30 اکتوبر 2011 کے جلسے والے دن بدل گئے تھے ، اس روز کیا حیران کن واقعہ پیش آیا تھا ؟ حیران کن واقعہ جان کر آپ بھی کپتان کے کمپرومائز کرنے کی اصل وجہ سے واقف ہو جائیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) اب اس بات میں ہرگز کوئی شبہ نہیں کہ جاوید ہاشمی نے تحریکِ انصاف سے علیحدگی کے وقت جو الزامات پارٹی پر لگائے تھے‘ ان میں کچھ نہ کچھ صداقت ضرور تھی۔ اس سے بہت پہلے ہی عمران خان صاحب سمجھوتہ کرنا سیکھ چکے تھے۔ 30 اکتوبر 2011ء کے جلسے کے فوراً بعد جب

نامور کالم نگار بلال الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔پہلے سے ”معروف‘‘ سیاسی لیڈر تحریک انصاف میں شامل ہونا شروع ہوئے تو کہرام اسی وقت برپا ہو گیا تھا۔ جب ہنگامہ ہوا تو عمران خان نے یہ جواب دیا کہ میں فرشتے کہاں سے لائوں؟ سیاسی جماعت میں شامل ہونا ہر سیاسی لیڈر کا حق ہے۔ ہاں! اگر میں کرپٹ آدمی کو ٹکٹ دوں تو پھر خطاکار ٹھہروں گا۔ سب نے یقین کر لیا۔ جب ٹکٹ تقسیم ہونے کا وقت آیا تو حیرت انگیز طور پر ویسے ہی لوگ نواز دیے گئے۔اس کے باوجود عمران خان کے فقید المثال کارناموں کی وجہ سے عوام ان پر یقین کرتے رہے۔ ان دنوں عمران خان کے حامی‘ جن میں مَیں بھی شامل تھا‘ یہ کہا کرتے کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ اپنی جماعت میں سے صفائی کر دیں گے۔ وقت گزرتا گیا۔ کبھی تو عمران خاں نے چودھری برادران کے ہوتے ہوئے پرویز مشرف کا وزیرِاعظم بننے سے انکار کر دیا تھا، پھر انہیں چودھری برادران سے مفاہمت کرنا پڑی۔ ہر چیز سے وہ سمجھوتہ کرتے چلے گئے۔حقیقت یہ تھی کہ ملک میں آخری بار جو ترقی ہوئی تھی، وہ پرویز مشرف کے دور میں ہوئی اور اس میں چودھری برادران کا ایک اہم کردار تھا۔ ہم لوگ اپنے اپنے تعصبات میں اندھے تھے اور امریکہ نوا ز ہونے کی وجہ سے پرویز مشرف سے نفرت کرتے تھے۔ 2008ء میں جب پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی مشترکہ حکومت بنی تو سب کو یقین تھا کہ پٹرول کی قیمت گرے گی،

نوکریاں ملیں گی اور ملک خوشحال ہوتا چلا جائے گا۔ پھر یہی یقین نون لیگ نے دلایا۔ پھر یہی یقین اسد عمر جیسے معاشی ماہر کی زبان سے تحریک انصاف نے دلایا کہ مہنگائی ختم ہو جائے گی، نوکریاں ملیں گی۔ انہوں نے اتنے بلند بانگ دعوے کیے کہ جو بیان سے باہر تھے۔ پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں۔ خیالی پلائومیں وہ گوشت اور گھی ڈالتے گئے اور ہم لوگ رال ٹپکاتے رہے۔ عمران خان صاحب کے بہت قریب رہنے والے لوگ یہ کہتے ہیں کہ 30 اکتوبر 2011ء کی شام سے پہلے کا عمران خان اور تھا اور اس جلسے کے بعد کا اور۔ خان صاحب نے جب لاکھوں آدمیوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھا تو یکایک وہ تبدیل ہو گئے۔ طاقت کی اپنی نفسیات ہوتی ہے اور نفس کو وہ مدہوش کر دیتی ہے۔ جب خان صاحب کو 2013ء میں حکومت نہ مل سکی تو ان کے اعصاب ٹوٹ کر رہ گئے۔ اس کے بعد آپ یہ دیکھیں کہ انہوں نے سول نافرمانی تک کا اعلان کر ڈالا، جو بغاوت کے زمرے میں آتی ہے اور کوئی مہذب لیڈر جس کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ سول نافرمانی تو ہوتی ہے غیر ملکیوں کی قابض حکومت کے خلاف۔ اس کے بعد جو رہی سہی کسر تھی، وہ 2018ء کے انتخاب میں پوری ہو گئی۔ خان صاحب نے ٹکٹوں کی تقسیم کا اختیار ہی دوسروں کو دے دیا۔ اس کے بعد باقی کیا بچا؟ اب یہ جو گزشتہ دو برس کی حکومت تحریکِ انصاف نے کی ہے، اس

کے بعد اب صرف چند سوشل میڈیا کے لوگ ہی حسنِ ظن بچائے بیٹھے ہیں کہ کوئی معجزہ برپا ہو گا اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ سب کچھ کہاں سے ٹھیک ہو؟ خرابی اس وقت ٹھیک ہوتی ہے، جب انسان غلطیوں کا اعتراف کرے۔ پھر اس میں اتنی استعداد ہو کہ وہ خرابی کو ٹھیک کر دینے والے اقدامات کر سکے۔ جب ایک شخص یہ مانتا ہی نہیں کہ اس سے کچھ غلط سرزد ہو رہا ہے تو اصلاح کہاں سے ہو گی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان صاحب اب جذبۂ انتقام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں ۔ ملکی حالات میں کوئی مثبت تبدیلی لانے میں وہ ناکام رہے اور اس کا غصہ وہ ماضی کی کرپٹ لیڈرشپ پر نکالنا چاہتے ہیں۔ خان صاحب کو بتانے والا کوئی نہیں کہ ماضی کی کرپٹ لیڈر شپ سے انتقام کے سارے راستے کارکردگی کی شاہراہ سے ہو کر جاتے ہیں۔ آپ کا انتقام تو اسی وقت پورا ہو جانا چاہیے تھا، جب ان کرپٹ لوگوں کو مسترد کر کے بالآخر آپ کو وزیرِ اعظم بنایا گیا۔ عوام خوشحال ہو جاتے تو اس بدعنوان اور مسترد اشرافیہ کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دی جاتی۔ عمران خان‘ جو کبھی خوفزدہ نہیں ہوئے تھے‘اب اس تشویش کا شکار رہتے ہیں کہ میری حکومت ختم ہونے کے بعد کیا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ جس جس کو انہوں نے ستایا ہے، وہ کچھ نہ کچھ تو کرے گا۔ یہ ہے ملک کی موجودہ صورتِ حا ل۔ آپ ہی بتائیں حسنِ ظن اب کہاں سے لائیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں