وہ پودا جسے کورونا کا توڑ قرار دے دیا گیا ۔۔۔۔۔مسلسل تجربات کے بعدنتیجہ اخذ

لندن (ویب ڈیسک) اس سال اپریل میں افریقی ملک مڈغاسکر دنیا بھر میں شہ سرخیوں میں آیا جب اس نے اعلان کیا کہ وہ ایک مقامی طور پر پائے جانے والے پودے کی مدد سے کورونا وائرس کا علاج کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔آرتیمیسیا نامی اس پودے سے بنے مشروب کی مڈغاسکر کے

صدر اینڈری راجولینا نے بھی تعریف کی تھی۔نامور صحافی پیٹر ماوے بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔تاہم اب تک اس پودے کے کورونا وائرس کے خلاف مؤثر ہونے کے کوئی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔ عموماً اس پودے کو ملیریا کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔آرتیمیسیا نامی یہ پودا اصل میں ایشیا میں پایا جاتا ہے مگر دنیا کے اور بہت سے ایسے علاقوں میں بھی اُگتا ہے جہاں کا موسم گرم اور دھوپ زیادہ پڑتی ہو۔یہ پودا دو ہزار سال سے چینی روایتی ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔ اسے درد کش ادویات اور ملیریا کی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔چینی روایتی ادویات میں اسے کنگھاؤ کہا جاتا ہے۔اسے سوئیٹ ورم وڈ یا اینوئل ورم وڈ بھی کہا جاتا ہے اور اسے کچھ قسم کی شراب بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔مڈغاسکر کے صدر روجولینا نے اس سال اپریل میں کہا تھا کہ آرتیمیسیا سے بنے ایک مشروب کے کورونا وائرس کے خلاف ٹرائلز میں کامیابی ملی ہے۔ انھوں نے یہ دعویٰ ستمبر میں بھی دہرایا۔مگر اب تک اس کے عوامی سطح پر کوئی شواہد حاصل نہیں ہوئے ہیں۔اور اس مشروب میں کیا ہے یہ صحیح انداز میں ابھی تک پتا نہیں چل سکا ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس میں سے 60 فیصد تک اجزا آرتیمیسیا سے لیے جاتے ہیں۔مڈغاسکر نے اس پودے سے گولیاں اور انجیکشن بنانے بھی شروع کر دیے ہیں جو اس وقت زیرِ غور ہیں اور ان کے ٹرائلز کیے جا رہے ہیں۔ادھر جرمنی اور ڈینمارک کے سائنسدانوں نے بھی آرتیمیسیا پودے کی مدد سے تحقیق شروع کر دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ لیبارٹری کے حالات میں یہ کورونا وائرس کے

خلاف کسی حد تک مؤثر ہورہا ہے۔تاہم اس تحقیق کی سائنسدانوں نے ابھی تک آزادانہ طور پر جانچ نہیں کی ہے۔ اس تحقیق میں پایا گیا کہ اس پودے سے نکالے گئے اجزا پانی یا الکوحل میں حل کر کے استعمال کیے جائیں تو یہ وائرس کش ہوتے ہیں۔یہ سائنسدان امریکہ میں یونیورسٹی آف کینٹکی کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ آگے جا کر ان کے انسانوں پر ٹرائلز کیے جا سکیں۔ادھر چین میں بھی روایتی ادویات کی مدد سے آرتیمیسیا پر کورونا وائرس کے خلاف مؤثر ہونے کے حوالے سے تحقیق کی جا رہی ہے۔جنوبی افریقہ میں بھی سائنسدان آرتیمیسیا پودے کی مختلف اقسام کے ساتھ تحقیق کر رہے ہیں تاہم ان کے پاس ابھی کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔عالمی ادارہِ صحت کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ابھی تک مڈغاسکر میں کیے جانے والے ٹیسٹوں کی تفصیلات نہیں ہیں۔عالمی ادارہِ صحت کے افریقہ کے سربراہ ژاں باپتیستے نکیما نے بی بی سی کو بتایا کہ ممکن ہے کہ ان کا ادارہ بعد میں ٹرائلز میں شامل ہو جائے مگر اس کے لیے انھیں پہلے موجودہ معلومات کا جائزہ لینا ہوگا۔اس وقت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ آرتیمیسیا سے بنی اشیا کا کورونا وائرس کے خلاف مؤثر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تمام ادویاتی پودوں کے پہلے کلینکل ٹرائلز صروری ہیں۔آرتیمیسیا پودے میں کے خشک پتوں میں جو اہم چیز پائی جاتی ہے اسے آرتیمیسینن کہتے ہیں اور ملیریا کے خلاف یہ مؤثر ہے۔1970 کی دہائی میں چینی سائنسدانوں نے اسے دریافت کیا تھا جب وہ ملیریا کا علاج ڈھونڈ رہے تھے۔آرتیمیسینن کی مدد سے تیار کردہ ملیریا کے علاج کی تائید ڈبلیو ایچ او بھی کرتا ہے۔ خاص طور پر ملیریا کی ان اقسام کے خلاف جن کے لیے کلوروکوئن کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ آرتیمیسیا سے بنی اشیا اب ملیریا کے خلاف بڑے پیمانے پر استعمال ہونے لگی ہیں جیسے کہ اس سے چائے، ماہرین کو ڈر ہے کہ کہیں ملیریا کا وائرس اس دوا کے خلاف مدافعت پیدا نہ کر لے۔جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں پہلے ہی ایسا دیکھا گیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ملیریا کا پیراسائٹ اس دوا کے خلاف مزاحمت قائم کر لے لگا مگر اس وقت کو طویل سے طویل بنانا ہے۔اسی لیے ادارہ آرتیمیسیا سے بنی اشیا کی غیر ادویات شکل جیسے کہ چائے کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔(بشکریہ : بی بی سی )

اپنا تبصرہ بھیجیں