سیاسی پشت پناہی ۔۔۔!!!23 ہزار تنخواہ لینے والا پٹواری اچانک کتنے قیمتی پلاٹوں کا مالک بن گیا؟ حیرت کے جھٹکے کے لیے تیار ہو جائیں

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سی ڈی اے کا 23ہزار تنخواہ لینے والا پٹواری کروڑ پتی بن گیا،کنگ حماد یونیورسٹی ایوارڈ2018ء میں پٹواری محمد اکرام بھٹی نے سیاسی پشت پناہی پر7سوکنال جگہ کے بدلے734 پلاٹ کمال مہارت سے بنا کر من پسند لوگوں میں تقسیم کروا دئیے

جبکہ گوگل میپ کے مطابق اسی جگہ کے334 پلاٹ بنتے تھے۔ آن لائن کو ذرائع نے بتایا کہ 2018ء میںکنگ حماد یونیورسٹی کا ایوارڈ ہوا تھا،اس میں چھٹہ بختاور ودیگرتین موضع کی زمین شامل تھی۔جب یہ منصوبہ شروع ہوا تو اس کی زمین7سوکنال تھی جس کے اسی وقت کے نائب تحصیلدار یاسر شاہ نے 334 پلاٹ بنائےتھے لیکن پھر ان کا تبادلہ کرایا گیا جسکے بعد اکرام بھٹی پٹواری نے سیاسی پشت پناہی کی بنا پر اس 7کنال زمین کے بدلے734پلاٹ بنا کر تقسیم کروا دئیے جس کی وجہ سے سی ڈی اے کو8سے10ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس ایوارڈ میں بہت سارے پلاٹ من پسند لوگوں اور افسران میں تقسیم کئے گئے تھے کیونکہ جو لسٹ نائب تحصیلدار نے تیار کی تھی اس کے مطابق334 پلاٹ بنتے تھے لیکن ان کے تبادلے کے بعد7کنال جگہ کے بدلے734 پلاٹ بنا کر تقسیم کروائے گئے ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اکرام بھٹی پٹواری جس کی تنخواہ23ہزار روپے ہے،وہ مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پلاٹوں کا مالک ہے،زراج ہاؤسنگ سوسائٹی میں2کنال کا گھر بنارکھا ہے اور کری ماڈل ویلیج میں سرکاری رقبہ بھی مختلف سوسائٹیوں کو دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اکرام بھٹی پٹواری کے خلاف چیئرمین سی ڈی اے کے پاس بہت سی درخواستیں پڑی ہوئی ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔اس حوالے سے جب نائب تحصیلدار یاسر شاہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جب2018ء￿ میں کنگ حماد یونیورسٹی کا ایوارڈ ہوا تو میں ادھر ہی تھا لیکن بعدمیں میرا تبادلہ ہوگیا تھا یہ منصوبہ بحرین کے تعاون سے بنایا جارہا تھااس میں چھٹہ بختاور کے علاوہ دو اور موضع بھی شامل تھے لیکن شروع میں میں نے کام کیا تھا لیکن بعد میں میرا تبادلہ کردیاگیا تھا۔اس حوالے سے جب پٹواری اکرام بھٹی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کیلئےہمارا پوراعملہ شامل تھا اس میں صرف میں ہی تو نہیں تھا لیکن ہم نے اس میں کوئی کرپشن نہیں کی۔واضح رہے کہ کنگ حماد یونیورسٹی منصوبے کا کیس نیب ودیگر اداروں میں چل رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے میں کرپشن نہیں ہوئی تو یہ کیس نیب میں کیسے چل سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں