بیٹا پریشان نہ ہو ایک دن تیرے بھی دن پھریں گے ، ایک دن لمبے منہ کا فیشن بھی آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔اداکار جاوید شیخ کے زوال کے دنوں میں کس خاتون نے یہ دلچسپ پیشگوئی کی تھی ؟ آپ بھی جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) بلّی تھیلے سے باہر آچکی ہے۔ ایک مدت سے سنتے آئے تھے کہ کراچی پر بھی قدرت مہربان ہوگی، اِس کے بھی دن پھریں گے۔ سب کے دن پھرتے ہیں۔ عمر شریف نے علی بھائی (اداکار محمد علی مرحوم) کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں ایک آئٹم سنایا تھا جو کچھ یوں تھا کہ جب وہ (عمر شریف) اور جاوید شیخ مشکلات کے دور سے گزر رہے تھے تب ایک دن (عمر شریف کے گھر میں) جاوید شیخ کو اداس دیکھ کر عمر شریف کی والدہ نے پوچھا

کہ بیٹا کیوں پریشان کیوں ہو؟ جاوید شیخ نے بتایا کہ فلمیں نہیں چل رہیں‘ کام نہیں مل رہا۔ اماں نے دلاسہ دیا کہ بیٹا! مایوس مت ہو، ایک دن تیرے بھی دن پھریں گے، ایک دن لمبے منہ کا بھی فیشن آئے گا اور تو ہٹ ہو جائے گا!نامور کالم نگار ایم ابراہیم خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔لگتا ہے کہ کراچی کے لمبے منہ کو بھی اب قبول کرلیا گیا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ گھوڑے کے دن بھی پھرتے ہیں، پھر بھلا کراچی پر قدرت کیوں مہربان نہ ہوتی؟ اہلِ نظر کی نظر کراچی پر پڑ ہی گئی۔ اربابِ بست و کشاد نے طے کرلیا ہے کہ اب شہرِ قائد کو بے لگام و بے آسرا نہیں چھوڑنا۔ معاملات کو تین برس میں درست کرنے کی یقین دہانی کرادی گئی ہے۔ وزیر اعظم کی کراچی آمد اور 1100 ارب روپے کے کراچی ٹرانسفرمیشن پیکیج کے اعلان سے قبل آرمی چیف نے کراچی پہنچ کر دو دن قیام کیا اور اِس دوران شہر کے حالات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ کاروباری برادری کی سرکردہ شخصیات سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں یہ یقین دلاتے ہوئے کاروباری طبقے کو اعتماد میں لیا گیا کہ کراچی کی ہر کَل سیدھی کردی جائے گی اور یہ کام صرف تین سال میں ہوگا۔ کاروباری برادری مطمئن ہوگئی ہے۔ حالیہ بارشوں سے اسے بھی غیر معمولی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ اس سے قبل کورونا کی وبا کے دوران نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن سے بھی کاروباری طبقے کو شدید دھچکا لگ چکا ہے۔کراچی میں کیا ہوسکے گا اور کیا نہیں‘ اِس کی بحث سے قطعِ نظر یہ حقیقت خوش آئند ہے کہ جن کے ہاتھ میں معاملات ہیں اُنہیں اِس شہر کا خیال آگیا ہے اور وہ کچھ کرنے کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں۔ایک زمانے سے کراچی کو بدلنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ کبھی یہ باتیں زور پکڑ لیتی ہیں اور کبھی سب کچھ جمود کا شکار ہوتا دکھائی دینے لگتا ہے۔

پورے اخلاص کے ساتھ کچھ کرنے والے کم ہیں اور باتیں بگھارنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ملک میں منصوبے بھی بہت آئے ہیں اور اُن پر عمل درآمد کے حوالے سے شور بھی بہت سُنا گیا ہے۔ جب شور کی گرد بیٹھتی ہے تب اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ نہیں ہو رہا۔ صرف باتوں سے کچھ بھی نہیں ہوتا‘ فرق تو حقیقی اقدامات سے دکھائی دیتا ہے۔وزیر اعظم نے کراچی کا بنیادی ڈھانچا درست کرنے، جامع ماس ٹرانزٹ سسٹم کا قیام یقینی بنانے اور فراہمی و نکاسیٔ آب کے حوالے سے پائی جانے والی پیچیدگیاں دور کرنے کا کہا ہے۔ 1100 ارب روپے کا پیکیج کم نہیں ہوتا۔ اگر یہ پیکیج پوری دیانت اور جاں فشانی سے خرچ کردیا جائے تو کراچی کچھ کا کچھ ہو جائے گا۔ اتنی بڑی فنڈنگ سے کراچی میں اِتنی مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی کہ شہر کا حلیہ بدل جائے گا ۔کراچی کے لیے پیکیج کے اعلان نے اہلِ شہر کو پُرامید ہونے کا ایک اور موقع فراہم کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں