اگر عمران خان شعیب دستگیر کی چھٹی نہ کرتے تو خود انکی چھٹی ہو جاتی ، مگر کیسے ؟ دنگ کر ڈالنے والا انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) اجلاس شروع ہوتے ہی خبریں نشر ہو نا شروع ہو گئیں کہ آئی جی پولیس نے عمر شیخ کے ساتھ کام کر نے سے معذرت کر لی ہے واضح رہے جو اجلاس آئی جی پولیس نے افسران بالا کا بلوایا تھا اس میں عمر شیخ نے بھی شرکت کرنے کی کوشش کی نامور صحافی یونس باٹھ اپنے ایک تجزیے میں لکھتے ہیں ۔۔۔مگر انھیں اس میں شامل ہونے سے روک دیا گیا جب محکمہ پولیس میں سیاست اور گروپنگ کی خبروں کا علم وزیر اعظم پاکستان کو ہوا تو انھوں نے فوری طور پر ایسے نا اہل آئی جی کو تبدیل کرناہی بہتر سمجھاور انعام غنی کو نیا آئی جی تعینات کرنے کا نو ٹیفیکیشن جاری کر دیا سمجھ سے بالا تر ہے کہ شعیب دستگیر کیسے بھولے بادشاہ ہیں،کہاں انھوں نے زندگی گزاردی،

اپنی طاقت شو کر کے کو نسا تمغہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔عمران خان نے ایسے نکمے نااہل اور بدھو آئی جی کو تبدیل کر کے محکمے پر ہی نہیں فورس پر بھی احسان کیا ہے اگر وہ نہ جاتے تو اس حرکت کے بعد عمران خان کو خود گھر جانا پڑ جانا تھا اداروں کے سربراہ کی تعیناتی کا اختیار حکومت کے پاس ہے پسند نہ پسند سے ادارے کام نہیں کرتے شعیب دستگیر نے نوکری کے آخری دنوں میں اپنے منہ اور ادارے پر جو کالک کے سیاہ دھبے چھوڑے ہیں انھیں مدتوں یاد رکھا جائے گا، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لمبے شخص کی عقل اس کے گھٹنوں میں ہوتی ہے عمر شیخ نے جس طرح لاہور میں اپنی انٹری ڈالی ہے اسے عوام میں بڑی پزیرائی مل رہی ہے،شعیب دستگیر کی اس بغضانہ حرکت کے بعد ان کے قد کا ٹھ میں مزید اضافہ ہو گیا ہےجبکہ شعیب دستگیر کا ساتھ دینے والوں کے مورال میں کمی واقع ہوئی ہے وزیر اعظم پاکستان نے خفیہ اداروں سے شعیب دستگیر کے ساتھ بغاوت کا حصہ بنے والوں کی رپورٹ مانگ لی ہے اور امکان ہے کہ ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔حکومت کی جانب سے نئے آئی جی پولیس کو بھی پیغام مل گیا ہے کہ عمر شیخ لاہور پولیس کے سربراہ ہیں اور حکومت ان کی خدادا صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے انھیں ان کے ساتھ بھر پور تعاون کر نا ہو گا ہم امید کرتے ہیں کہ لاہور پولیس جس میں مایہ ناز کمانڈر کے ساٹھ بہترین کوارڈی نیشن کے ماسٹر اور آپریشنل کمانڈر ڈی آئی جی اشفاق احمد خان اورتجربہ کار ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شہزادہ سلطان موجود ہیں ایک اچھی اننگ کھیلیں گے اورپنجاب پولیس کے کمانڈرانعام غنی کی قیادت میں لاہور کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں