پنجاب پولیس کے بڑے شہروں میں تعینات اعلیٰ افسران کس شرمناک بزنس میں ملوث ہوتے ہیں ؟ ندیم افضل چن کا تہلکہ خیز انکشاف

کراچی (ویب ڈیسک)وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ آئی جی پنجاب سے کوئی نئی پارٹی یا یونیفکیشن بلاک نہیں بنوانے چاہتے،پنجاب پولیس افسران شہروں میں پراپرٹی کا کام کرتے ہیں۔ان کے خلاف کارروائی پانچ دس ووٹوں کی اکثریت والی حکومت کیلئے آسان نہیں ہے، اصلاحات سیاسی لوگوں نے کرنی ہیں بیوروکریٹ اصلاحات نہیں کرسکتا،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی میں حالات اتنے برے نہیں ہیں۔

وہ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں ن لیگ کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا اور وزیرتعلیم سندھ سعید غنی بھی شریک تھے۔محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ حکومت کے پاس اپنے افسران کو کنٹرول کرنے کا کوئی میکنزم نہیں ہے۔بار بار افسران کو تبدیل کرنے سے گورننس کا سسٹم تباہ ہوتا ہے، اٹھارہویں گریڈ کا افسر تین دن سے لاپتہ ہے یہ ہمارے سسٹم کی ناکامی ہے۔سعید غنی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کا سندھ کے ساتھ دہرا معیار ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں آئی جی پولیس تبدیل ہوتے رہتے ہیں، سندھ حکومت آئی جی بدلنا چاہے تو طوفان کھڑا ہوجائے گا، وفاقی حکومت سندھ میں صوبائی حکومت سے لڑنے والے افسران لگاتی ہے، سندھ حکومت کے بڑے منصوبوں میں پیسہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور عالمی مالیاتی ایجنسیوں سے آئے گا، اسلام آباد میں سیف سٹی کے کیمرے کس لیے لگے ہوئے ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم افضل چن نے کہا کہ آئی جی پنجاب سے کوئی نئی پارٹی یا یونیفکیشن بلاک نہیں بنوانا چاہتے ، ہماری خواہش زمینوں اور شوگر ملوں پر قبضے کروانے کی بھی نہیں ہے۔پنجاب بڑا صوبہ ہے اس کی پولیس رول ماڈل ہونی چاہئے، پچھلی حکومتوں میں پنجاب پولیس کو سیاست زدہ کیا گیا، پولیس افسران کے رشتے داروں کو ٹکٹ دیئے گئے۔ ندیم افضل چن نے کہا کہ پنجاب پولیس کے افسران شہروں میں پراپرٹی کا کام کرتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی پانچ دس ووٹوں کی اکثریت والی حکومت کیلئے آسان نہیں ہے۔پنجاب حکومت کی اکثریت ساٹھ ستر ووٹوں کی ہوتی تو کارروائی ہوجاتی، پنجاب پولیس کے اندر بھی مافیا بن چکا ہے جس سے لڑنے کیلئے حکمت عملی تبدیل کرنی پڑتی ہے،آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کے حوالے سے غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ جونیئر افسر آئی جی بن جائے تو سینئر افسر کو ریٹائر ہوجانا چاہئے یا دوسری جگہ چلے جانا چاہئے، سیاست میں سینئر جونیئر نہیں ہوتا ہے۔ملک کے اداروں کو مضبوط کرنا اور اصلاحات لانا ہوں گی، اصلاحات سیاسی لوگوں نے کرنی ہیں بیوروکریٹ اصلاحات نہیں کرسکتا۔ندیم افضل چن نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی پیکیج پر عملدرآمد پر اپنی توجہ مرکوز رکھے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ ہمیشہ دست و گریباں رہے ہیں، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی میں حالات اتنے برے نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں