تبدیلی کو بے نقاب کر دینے والے انکشافات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پولیس میں سیاست زدگی کے سنگین واقعے میں وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے پانچویں آئی جی پولیس شعیب دستگیر کو تبدیل کر دیا اور اُس سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا

جنہیں انہوں نے تیسری کیٹگری کا افسر ہونے کی وجہ سے پروموشن کا اہل نہ سمجھا تھا ۔نامور صحافی انصار عباسی اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔سینٹرل سلیکشن بورڈ کے روبرو عمر شیخ کی رپورٹ پیش کرنے والے ادارے انٹیلی جنس بیورو نے ان کی ساکھ کے متعلق انتہائی منفی رپورٹ پیش کی تھی۔ وزیراعظم نے سی ایس بی کی سفارش پر عمر شیخ کا کیس چھوڑ دیا،سی ایس بی نے انہیں ’’داغدار‘‘ کیریئر والا افسر قرار دیا تھا۔ دلچسپ بات ہے کہ وزیراعظم نے آئی جی پنجاب کو تبدیل کر دیا اور اپنا وزن ایک ایسے افسر کی حمایت میں ڈال دیا جسے انہوں نے چند ماہ قبل ہی سی ایس بی کی سفارش کو مد نظر رکھتے ہوئے ترقی کا اہل نہ سمجھا تھا۔سی ایس بی کا کہنا تھا کہ ایسی داغدار شہرت کا حامل افسر نہ صرف اہم عہدے حاصل کرنے کیلئے سرکاری عمل میں ہیرا پھیری کرتا ہے بلکہ ایولیوشن سسٹم میں بھی بچ نکلتا ہے۔ 15؍ جون 2020ء کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے باضابطہ طور پر عمر شیخ کو بتایا کہ سی ایس بی کی سفارش پر مجاز اتھارٹی (وزیراعظم) نے ان کے پروموشن کا کیس منسوخ کر دیا اور اسلئے آپ کو 21؍ گریڈ میں ترقی نہیں دی جا رہی۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سی ایس بی کے جن نکات کی منظوری دی گئی ان کے مطابق، تربیتی رپورٹس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ افسر (عمر شیخ) کی بین المحکمہ جاتی قواعد و ضوابط کے حوالے سے سمجھ بوجھ بہت محدود ہے اور افسر کے رجحانات میں غیر سنجیدگی شامل ہے۔مزید یہ کہ افسر کی 2014ء اور 2015ء کی پی ای آرز (اے سی آر رپورٹس) کا معیار ’’شاندار‘‘ سے کم ہو کر ’’اچھا‘‘ ہوگیا جس کا مطلب یہ ہوا کہ افسر اپنے حکام بالا کو اپنے کام کاج اور فرائض کی انجام دہی کے معاملے میں مطمئن نہیں کر پایا۔ بورڈ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ ایسی داغدار شہرت کا حامل سرکاری عمل میں ہیرا پھیری کے ذریعے نہ صرف اہم عہدے حاصل کر لیتا ہے بلکہ ایولیوشن سسٹم بھی بچ نکلتا ہے۔ سی ایس بی کے منٹس میں لکھا تھا

کہ بورڈ نے سرکاری ملازمین (گریڈ 18 تا 21) کی ترقی کیلئے رولز 14(1) پر غور کیا جس کے مطابق گریڈ 19 تا 21 کو سلیکشن پوسٹ کہا گیا ہے۔سول سرونٹس ایکٹ 1973ء کے سیکشن 9(2) کے مطابق ان گریڈز پر ترقی خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ہوگی۔ مزید برآں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے 11؍ اکتوبر 2002ء کو سول اپیل نمبر 1599 تا 1606/1999 میں قرار دیا تھا کہ کوئی بھی سرکاری ملازم حق سمجھ کر ترقی نہیں مانگ سکتا۔ بحث و مباحثے کے بعد، بورڈ نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ مذکورہ افسر سی کیٹگری کا ہے اور اس کی ترقی کا معاملہ سول سرونٹس پروموشن رولز 2019 ء کے تحت منسوخ کر دیا کیونکہ وہ ترقی کیلئے مطلوبہ 75؍ مارکس حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ نتیجہ اخذ کرنے سے قبل سی ایس بی کے نکات میں لکھا تھا کہ بورڈ نے افسر کے سروس پروفائل ٹی ای آرز / پی ای آرز کا جائزہ لیا۔ ڈپارٹمنٹل نمائندے نے بورڈ کو افسر کے متعلق بریفنگ دی اور بتایا کہ پیشہ واریت اور ساکھ کے معاملے میں افسر کی شہرت اچھی نہیں۔ شخصیت کے معاملے میں بھی ان کے ساتھ مسائل ہیں اور اچانک نرم مزاجی سے سخت مزاج بن جاتے ہیں جس سے پولیس سروس کے متعلق عوام کی رائے متاثر ہوتی ہے۔دی نیوز یہاں وہ کچھ شائع نہیں کر سکتا جو آئی بی کی رپورٹ میں لکھا ہے، اس میں سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس نمائندے نے عمر شیخ کو آئی بی رپورٹ بھی دکھائی اور سی ایس بی کے منٹس بھی دکھائے تاکہ ان کا موقف معلوم کیا جا سکے۔ شیخ نے واٹس ایپ پیغام کے ذریعے جواب دیا کہ ان کے پاس موقف کیلئے تفصیل موجود ہے اور شام تک وہ اس نمائندے کو بتائیں گے۔ تاہم، انہوں نے مختصراً بتایا کہ آئی بی رپورٹ کی ساکھ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں ان کے والد کا نام بھی نہیں لکھا لیکن یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے تین بیٹے ہیں جبکہ ان کے دو بیٹے ہیں۔ انہوں نے آئی بی کی رپورٹ کو سنی سنائی باتیں قرار دیا۔منگل کو دی نیوز میں خبر شائع ہوئی تھی

کہ آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی پی او لاہور میں سے کون اپنا عہدہ بچانے میں کامیاب ہوتا ہے؛ اس کا تعین وزیراعظم عمران خان کے فیصلے کی نوعیت سے ہوگا کہ وہ سیاسی فیصلہ کرتے ہیں یا انتظامی۔ وزیراعظم نے آئی جی پولیس شعیب دستگیر کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جو اس بات کو نظرانداز کرنے کیلئے آمادہ نہیں تھے جو ان کے نئے مقرر ہونے والے سی سی پی او لاہور نے کیا تھا۔لاہور پولیس چیف مقرر ہونے پر انہوں نے آئی جی پولیس کیخلاف بات کی تھی۔ دستگیر کیلئے یہ معاملہ سنگین مس کنڈکٹ کا تھا جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، عمر شیخ نے اس نمائندے کو بتایا کہ انہوں نے آئی جی پولیس سے ملنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی۔ شیخ نے اس نمائندے کو وہ واٹس ایپ پیغامات بھی دکھائے جو انہوں نے دعویٰ کیا

کہ دستگیر کو بھیجے ہیں جس میں انہوں نے اپنے بیان کو ’’کنفیوژن‘‘ قرار دیا۔ایک سینئر وفاقی بیوروکریٹ کے مطابق، پنجاب میں منگل کے دن جو کچھ ہوا وہ پولیس فورس کے انتہائی حد تک سیاست زدہ ہونے کا واقعہ ہے اور یہ صورتحال وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے عزم کے برعکس ہے۔ سی ایس بی کی سفارش پر وزیراعظم نے سی سی پی او لاہور کی ترقی کا معاملہ منسوخ کیا تھا۔ سی ایس بی کی قیادت چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے کی اور بورڈ کے ممبران میں تمام صوبائی آئی جیز اور چاروں چیف سیکریٹریٹز اور اہم وفاقی سیکریٹریز شامل تھے۔یہ سول سروس کا اعلیٰ ترین فورم ہے جس نے شیخ کی ترقی کا معاملہ ختم کیا اور شعیب دستگیر بھی اسی فورم کا حصہ تھے۔ جیسا کہ دی نیوز نے پہلے خبر شائع کی تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے عمر شیخ کو وفاقی حکومت کے مشیر کی زبردست سفارش پر سی سی پی او لاہور لگایا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں