جونیئر افسر کے کہنے پر شعیب دستگیر تبدیل! عمر شیخ کے پیچھے کس طاقت ور ترین شخصیت کا ہاتھ ہے آئی جی پنجاب کی تبدیلی پر سینئر صحافی حامد میر کا حیران کن انکشاف

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی حامد میر نے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی تبدیلی پر تجزیہ کرتے ہوئے کہاہے کہ جونیئر افسر کو بہت ہی طاقتورشخص کی آشرواد حاصل تھی ، ان کو پتا تھا کہ میرے سامنے آئی جی کی کوئی اوقات نہیں ، میں آئی جی کے بارے میں جو مرضی کہوں مجھے کوئی پوچھنے والا نہیں سینئر صحافی حامد میر نے نجی ٹی وی جیونیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑ ا صوبہ ہے ، دو سال میں پانچ آئی جی تبدیل ہوں گے تو سوچیں کہ پولیس کا مورال کیا ہو گا، ویسے بھی یہاں پر اکثر سیکریٹریز بھی تبدیل ہوتے جارہے ہیں ،

پولیس کی صوبے میں امن و امان قائم رکھنے کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو اس وقت کیپٹن ریٹائر عارف نواز آئی جی پنجاب تھے ان کی جگہ پی ٹی آئی کلیم امام کو لے کر آئی ، ایک واقعہ ہو گیا تو کلیم امام کو تبدیل کر کے محمد طاہر کو آئی جی پنجاب بنایا گیا ، ان کے بعد امجد جاوید سلیمی آئے ، ان کے بعد عارف نواز خان آئے تو وہ بھی نہیں چل سکے ، پھر شعیب دستگیر کو لایا گیا ،شعیب دستگیر کو اس لیے لایا گیا کیونکہ یہ نیشنل پولیس فاﺅنڈیشن کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں ، آئی جی آزاد کشمیر بھی تھے ، یو این میں بھی کام کا تجربہ تھا اور بڑے پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ حامد میر کا کہناتھا کہ پنجاب میں 36 اضلاع اور 9 ڈویژن ہیں ، آئی جی صوبے میں رٹ قائم کرنے کیلئے چارج سنبھالنے کے بعد آہستہ آہستہ ہر ضلع کا دورہ کرتا ہے اور ڈویژن میں جاتاہے جہاں وہ پولیس افسران سے بات چیت کرتاہے اور ان کے مسائل حل کرتاہے ، اس کے علاوہ چھوٹی موٹی ٹرانسفرز کرتاہے ۔آپ سوچیں کے دو سال میں پانچ آئی جی تبدیل ہوئے ہیں تو ایک بھی آئی جی ایسا نہیں ہو گا جس نے 36 اضلاع کا دورہ کیا ہو گا ا،س طرح آئی جی کی صوبے میں رٹ ہی قائم نہیں ہو گی تو پھر حکومت کی رٹ کس طرح قائم ہو گی ۔حامد میر نے کہا کہ یہ تو سیدھا سیدھا پنجاب کو امن اور قانون کے دشمنوں کیلئے جنت بنا رہے ہیں ، پولیس کی رٹ آئی جی سے قائم ہوتی ہے ، وہ جونیئر افسران جو یہ سمجھ رہے ہیں انہوں نے آئی جی کو ٹرانفسر کر وا دیاہے تو انہوں نے بہت بڑا تیر مار لیاہے ،

ان کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ اسی طرح طاقتور لوگوں کی مدد سے پروموٹ ہوتے رہیں گے اور وہ بھی ایک دن آئی جی بن جائیں گے تو اگر ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا تو ان کا کیا انجام ہو گااور صوبے کے لوگوں کا کیا انجام ہو گا۔سینئر صحافی کا کہناتھا کہ صوبے میں دو سال میں پانچ آئی جی تبدیل ہوناہے یہ پنجاب میں بیڈ گورننس کی مثال قائم کی گئی ہے اس کے بعد بھی اگر کوئی یہ کہے کہ پنجاب میں حکومت بہت اچھی چل رہی ہے تواس کو تو سیلیوٹ ہی مارا جا سکتا ہے ۔ یہ پنجاب میں بیڈ گورننس کی مثال قائم کی گئی ہے اس کے بعد بھی اگر کوئی یہ کہے کہ پنجاب میں حکومت بہت اچھی چل رہی ہے تواس کو تو سیلیوٹ ہی مارا جا سکتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں