گزشتہ روز عثمان بُزدار اور شعیب دستگیر کی ملاقات میں کیا کچھ ہوا؟ اچانک آئی جی پنجاب کی تبدیلی کا فیصلہ کیوں ہوا؟ ساری کہانی منظرعام پر

لاہور (نیوز ڈیسک ) عہدے سے برطرف کیے گئے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کے کچھ کار خاص افسروں کے ذریعے آئی جی پنجاب کا دفتر بغاوت کیلئے استعمال ہورہا ہے، ان خیالات کا اظہار تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کیا ۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں اپنے تبصرے میں انہوں نے

کہا کہ پولیس کے چند افسروں نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے ماتحت کام کرنے سے انکار کیا ، سی سی پی اولاہور عمر شیخ آئی جی کے دفترا جلاس میں شرکت کیلئے پہنچے تو انہیں دھکے دیے گئے اور اجلاس میں شرکت سے روکا گیا جہاں پر سخت الفاظ کا بھی استعمال کیا گیاجبکہ بہت سے دیگر افسران نے اجلاس میں یہ کہہ کر شرکت سے انکار کیا جب انہیں صوبہ بدر کیا گیا یا ا ایس ڈی بنادیا گیا تو آئی جی پنجاب شعیب دستگیراس وقت حکومت کے ساتھ تھے ۔عارف حمید بھٹی نے بتایا کہ آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات بغیر یونیفارم کے ہوئی جس میں انہوں نے آئی جی سے خدشات کا اظہار کیا لیکن آئی جی نے ان کی بھی نہیں مانی اورآج بھی آفس نہیں گئے ۔ واضح رہے کہ آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کا تبادلہ کر دیا گا ۔ 2 سال کے دوران پنجاب کے پانچ آئی جی تبدیل ہوئے ۔ تفصیلات کے مطابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کا تبادلہ کر دیا گیا جب کہ سی سی پی او لاہور کام جاری رکھیں گے۔دونوں کے درمیان شدید اختلافات پائے جا رہے تھے ۔ اختلافات کا آغاز اس وقت ہوا جب سی سی پی او نے افسران کو آئی جی کے حکم سے پہلے تمام معاملات اپنے علم میں لانے کی ہدایت کی۔ جس پر آئی جی پنجاب شعیب دستگیر بھڑک اٹھے۔انہوں نے سی سی پی او کی معذرت قبول کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب 3 روز سے آفس بھی نہیں آئے۔آئی جی کی نظر میں یہ معاملہ شدید مس کنڈکٹ ہے۔دونوں افسران کی لڑائی کی خبریں وزیراعلیٰ پنجاب تک پہنچ گئی ہیں۔ آئی جی پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سی سی پی او کو بھی بلایا جائے۔ دونوں کا موقف سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ پیر کے روز آئی جی پنجاب نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور اس دوران سی سی پی او کی بغیر مشاورت تعیناتی پر اعتراض کیا۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ سی سی پی او لاہور کو فوری تبدیل کیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سی سی پی او لاہور کی تبدیلی سے معذرت کرلی۔ جبکہ آئی جی پنجاب نے بھی بات نہ ماننے پر کام کرنے سے انکار کردیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں