بے شک ملک میں 40 سال کے لیے مارشل لاء لگا دو یا عمران خان کو تاحیات خلیفہ بنا دو ، مگر ایک کام ضرور کرو ۔۔۔۔ جاوید چوہدری کا دلائل کے ساتھ حیران کن مطالبہ

لاہور (ویب ڈیسک) یہ باتیں اب زیادہ ڈھکی چھپی نہیں رہیں ‘وزیراعظم کے احباب انھیں مشورہ دے رہے ہیں ساری خرابیاں پارلیمانی نظام کی دین ہیں‘ یہ سسٹم ان پڑھوں‘ ناتجربہ کاروں‘نالائقوں اور بدعنوان لوگوں کو اوپر لے آتا ہے‘ یہ لوگ حلقوں کے ایکسپرٹ ہوتے ہیں‘ یہ الیکشن لڑنا اور جیتنا جانتے ہیں نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔چناں چہ یہ سیاسی جماعتوں کو دبا کر کے ٹکٹ لے لیتے ہیں اور پھر یہ اسمبلیوں میں گروپ بنا کر وزارتیں لے لیتے ہیں اور وزیراعظم ان کے ہاتھوں دبتے رہتے ہیں‘ یہ احباب عمران خان کو بار بار بتا رہے ہیں۔لوگوں نے 2018میں صرف عمران خان کو ووٹ دیے تھے‘ عوام دوبارہ عمران خان کو ووٹ دیں گے چناں چہ خان صاحب کو اگلے الیکشنز سے پہلے ان عناصر کا گھیرا توڑنا ہو گا اور یہ صرف صدارتی نظام ہی کے ذریعے ممکن ہے۔یہ لوگ سمجھتے ہیں مارچ 2021میں سینیٹ کے الیکشنز کے بعد عمران خان کی پوزیشن مضبوط ہو جائے گی اور یہ بڑی آسانی سے جوائنٹ سیشن بلا کر ملک کو پارلیمانی سے صدارتی نظام میں شفٹ کر سکیں گے اور یہ اگر ممکن نہ ہوا (اور یہ قانونی اور آئینی لحاظ سے ممکن بھی نہیں) تو ریفرنڈم کرا کر پورے ملک سے بھی رائے لی جا سکتی ہے اوراگر اپوزیشن اور عدلیہ کی طرف سے رکاوٹ آئی تو عمران خان کم از کم ایم این ایز کا مافیا اور حلقوں کا اثر توڑنے کے لیے پورے ملک کے حلقے ضرور تبدیل کر سکتے ہیں‘ یہ پورے ملک کے ووٹروں کو کل حلقوں پر تقسیم کر کے سارے حلقے برابر کر دیں گے جس کے بعد تمام حلقوں کے ووٹ برابر ہو جائیں گے یوں برادریوں کا زور بھی ٹوٹ جائے گا اور روایتی سیاست دانوں کی شطرنج بھی بکھر جائے گی اور اس کافائدہ پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم‘ ق لیگ اورگرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کو ہوگا۔پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن‘ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور کے پی کے میں اے این پی کی سیاسی دیواریں گر جائیں گی لیکن سوال یہ ہے کیا یہ ہو سکے گا؟ اس کا جواب مولوی صاحب کے اس لطیفے میں چھپا ہے جس میں کسی نے مولوی صاحب سے پوچھا تھا‘ انسان اگر نماز پڑھ رہا ہو اور شیر آ جائے تو انسان کو نماز توڑ دینی چاہیے یا جاری رکھنی چاہیے‘ مولوی صاحب نے سنجیدگی سے فرمایا‘ بیٹا اگر شیر دیکھنے کے بعد بھی تمہارا وضو قائم رہے تو تم بے شک نماز جاری رکھو‘ حکومت اگر اگلے چند ماہ کا پریشر برداشت کر گئی۔یہ اگر سینیٹ کے الیکشنز تک پہنچ گئی توصدارتی نظام کا پھڈا بھی پڑ جائے گا اور حلقے بھی تبدیل ہو جائیں گے اور حکومت این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارہویں ترمیم میں بھی ترمیم کر لے گی مگر سردست ہنوز دلی دور است! دوسرا سوال‘ کیا اس کا ملک کو فائدہ ہو گا؟

میرا نہیں خیال‘ کیوں؟ کیوں کہ ایشو نظام میں نہیں ہم میں ہے‘ ہم کسی سسٹم سے مطمئن نہیں ہوتے‘ ہم کسی کو چلنے نہیں دیتے چناں چہ نتیجہ ہر بار وہی نکلتا ہے یعنی اباؤٹ ٹرن‘ پھر کوئی نیا پھنے خان آ جاتا ہے اور وہ بھی پودے کی جڑیں کھود کر بیٹھ جاتا ہے‘ ہمیں بہرحال کسی نہ کسی دن رک کر یہ ضرور سوچنا پڑے گا۔ہم آخر کب تک چاند پر بیٹھ کر عینکیں بدل بدل کر چاند تلاش کرتے رہیں گے‘ ہم آخر کب تھکیں گے؟ میں جمہوریت پسند ہوں لیکن میں بھی حالات سے اتنا تنگ آ چکا ہوں کہ میں بھی اب ببانگ دہل کہتا ہوں آپ ملک میں بے شک چالیس سال کے لیے مارشل لاء لگا دیں یا عمران خان کو تاحیات خلیفہ بنا دیں لیکن ملک کو کم از کم چلنے دیں‘اس میں استحکام آنے دیں ورنہ یہ ملک نظاموں کا قبرستان تو بن جائے گالیکن یہ ملک‘ ملک نہیں رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں