اسرائیل کو کسی صورت میں بھی تسلیم نہ کرنے کا اعلان : اہم اسلامی ملک کویت کی اسرائیل سے دیرینہ مخالفت کی اصل وجہ کیا ہے ؟ چند تاریخی حقائق آپ کو حیران کر دیں گے

لندن (ویب ڈیسک) اسرائیل کی طرف عرب خلیجی ملکوں کے بڑھتے ہوئے جھکاؤ کے باوجود کویت مسئلہ فلسطین کے منصفانہ طریقے سے حل ہونے تک اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے اپنے دیرینہ موقف پر سختی سے ڈٹا ہوا ہے۔ گزشتہ دو برس سے خطے میں پس پردہ اور کھلے عام اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے لیے سرکاری سطح پر سرگرمیاں جاری تھیں

جس کا نتیجہ 13 اگست کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی صورت میں سامنے آیا۔نامور صحافی امنیہ النجار کی بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔یہ معاہدہ جو امریکی کوششوں کی وجہ سے ہوا اس کی بحرین اور عمان نے خوب پذیرائی کی جبکہ سعودی عرب اور قطر نے اس بارے میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔کویت جس نے اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے کی مخالفت کی تھی وہ مستقل قریب میں اپنا موقف تبدیل کرتا نظر نہیں آتا اور لگتا ہے کہ خلیج میں فلسطینیوں کی حمایت کا وہ آخری گڑھ رہے جائے گا۔خلیج میں اس چھوٹی سی ریاست کی اسرائیل کے بارے میں غیر متزلزل پالیسی اسے خلیجی رابط کونسل کے ملکوں سے ممتاز کر دے گی۔کویت ہمیشہ سے ہی اسرائیل سے تعلقات بہتر کرنے کی خفیہ کوششوں کا بھی سخت مخالف رہا ہے۔اس نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے کے بعد بھی اپنے اس موقف کا اعادہ کیا۔ اس معاہدے کے بعد متحدہ عرب امارات اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے والا پہلا عرب خلیجی ملک بن گیا تھا۔کویت میں خبروں کی ایک ویب سائٹ نے 15 اگست کو سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے بارے میں کویت اپنے موقف پر سختی سے کار بند ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔اس خبر کی سرخی یہ لگائی گئی تھی کہ کویت اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے والا

آخری ملک ہو گا۔اس نجی اخبار میں کہا گیا کہ کویت کا موقف اس کی دہائیوں سے جاری فلسطینی نصب العین کی حمایت پر مبنی خارجہ پالیسی پر قائم ہے کیونکہ یہ عربوں کا اولین مسئلہ ہے اور کویت کے لیے اس مسئلہ کا وہی حل قابل قبول ہو گا جسے فلسطینی قبول کریں گے۔اسی اخبار میں ایک اور مضمون شائع کیا گیا جس کا عنوان تھا کہ کویت اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے سامنے کھڑا ہے، تعلقات بحال نہیں کریں گے۔اگست کی13تاریخ کو کویت میں غیر سرکاری تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی سختی سے مذمت کی گئی۔کویت کی پارلیمان میں فوراً ہی اس معاہدے پر تنقید کی گئی اور ایسے قوانین پر عملدر آمد کی بات کی گئی جو اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔اگست کی 31 تاریخ کو القبس نے سرکاری ذرائع سے اطلاع دی کہ کویت اسرائیل سے متحدہ عرب امارات جانے والی پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔کویت نے یہ اعلان سعودی عرب اور بحرین کی طرف سے فضائی حدود کھولنے کی متحدہ عرب امارات کی درخواست کو قبول کرنے کے بعد کیا تھا۔ متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب اور بحرین سے درخواست کی تھی کہ وہ ان ملکوں کی تمام پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دیں جن کی منزل یا تو متحدہ عرب امارات ہو یا وہ متحدہ عرب امارات سے شروع ہوں۔کویت کے اسرائیل مخالف اس غیر متزلزل موقف کی ایک بڑی وجہ مسئلہ فلسطین سے اس کا تاریخی تعلق بھی ہے۔

سنہ 1930 میں برطانوی حکمرانی کے دوران بڑھتے ہوئے عرب اسرائیل تنازعے کی وجہ سے آنے والے فلسطینی مہاجرین کو خوش آمدید کہنا والا کویت پہلا ملک تھا۔شیخ احمد الجبرالصبا جو سنہ 1936 میں کویت کے فرما روا تھے ان کی دعوت پر فلسطینی مہاجرین پہلی مرتبہ کویت آئے تھے۔ اس کے بعد سنہ 1948 میں جب ’النکبہ‘ کے دوران اسرائیل فوج کی طرف سے فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیئے گئے تو مزید فلسطینی مہاجرین کویت پہنچے۔سنہ 1990 تک کویت میں چار سے ساڑھے چار لاکھ کے قریب فلسطینی کویت میں مقیم تھے جہاں اردن کے بعد فلسطینی سب سے بڑی تعداد میں موجود تھے۔کویت میں مقیم دوسری قومیتوں کے افراد کے مقابلے میں فلسطینیوں سے زیادہ بہتر سلوک کیا جاتا تھا لیکن سنہ 1990 میں صدام حسین کے کویت پر اٹیک کی فلسطینی تنظیم پی ایل او کی طرف سے حمایت کرنے پر اس رویے میں تبدیلی آ گئی۔اس کے رد عمل میں مارچ اور ستمبر سنہ 1991 کے دوران کویت نے دو لاکھ فلسطینیوں کو اپنے ملک سے نکال دیا۔ بعد میں اس نے ان دو لاکھ فلسطینیوں کو بھی ملک میں داخل ہونے سے روک دیا جو عراقی اٹیک کے دوران ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اس وجہ سے کویت میں مقیم فلسطینیوں کی تعداد بہت کم ہو گئی اور ان سخت اقدامات کی وجہ سے یہ تعداد گھٹ کر ستمبر سنہ 1991 میں صرف 20 ہزار ہی رہ گئی۔گلف نیوز ویب سائٹ نے ستمبر سنہ 2012 میں لکھا تھا کہ ان تعلقات میں اس وقت بہتری آ گئی جب فلسطین کے

صدر محمود عباس نے دسمبر سنہ 2004 میں کویت سے عراقی اٹیک کی حمایت کرنے پر سرکاری طور پر معافی مانگ لی اور یوں فلسطینیوں کے لیے کویت کی مالی اور سفارتی حمایت کا راستہ دوبارہ کھل گیا۔یہ تعلقات سنہ 2013 میں اور زیادہ بہتر ہو گئے جب 23 سال تک تعطل کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کویت کا دورہ کیا اور وہاں اپنے سفارت خانے کا افتتاح کیا۔اسرائیل کے خلاف کویت کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم عنصر اس کی عرب اقدار سے وابسگتی اور ان کی پاسداری اور اسلامی یکجہتی بھی ہے۔ان کی عکاسی نہ صرف کویت کے امیر شیخ صبا الاحمد الصبا کے بیانات اور تقریروں بلکہ ملک کی سیاسی قوتوں کے بیانات میں بھی ہوتی ہے۔ان میں سب سے سرکردہ اسلامی اور عرب قوم پرست قوتیں ہیں جو اپنے نظریاتی اختلاف کے باوجود مسئلہ فلسطین کی سختی سے حمایت کرتے ہیں۔ ان خیالات کی توثیق کویت کی پارلیمان کے ارکان کی اکثریت نے کی اور اسی وجہ سے کویت کی پارلیمان مسلسل مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی امن منصوبے کی مخالفت کرتی رہی ہے جس کو امریکہ ‘ڈیل آف سنچری’ یا صدی کا معاہدہ قرار دیتا ہے۔کویت کی طرف سے فلسطینیوں کی حمایت کا ایک عنصر خطے میں امریکہ کا اہم اتحادی ہونے کے باوجود امریکی دباؤ میں نہ آنا ہے۔خلیجی ملکوں کو اسرائیل کو تسلیم کرنے پر قائل کرنے کے لیے امریکہ کی طرف سے ایرانی خطرے کو بڑھا چڑھا پیش کیا گیا لیکن کویت نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔(بشکریہ : بی بی سی)

اپنا تبصرہ بھیجیں