بزدار صاحب !!! اس آدمی کو نوکری سے فارغ کریں نہیں تو میں ۔۔۔۔ آئی جی پنجاب کا وزیراعلیٰ پنجاب سے ناقابل یقین مطالبہ، نہ ماننے پر بڑی دھمکی دے ڈالی

لاہور(ویب ڈیسک ) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے سی سی پی لاہور کو تبدیل نہ کرنے پر آئی پنجاب پولیس شعیب دستگیرنے مزید کام کرنے سے انکار کردیا۔ آئی جی پنجاب نے وزیراعلیٰ سے ملاقات میں سی سی پی او کی بغیر مشاورت تعیناتی پر اعتراض کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے آئی پنجاب پولیس شعیب دستگیرنے ملاقات کی،

جس میں آئی جی پنجاب نے وزیراعلی کو سی سی پی لاہور کی تعیناتی سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔آئی جی پنجاب نے سی سی پی او کی بغیر مشاورت تعیناتی پر اعتراض کیا ۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ سی سی پی او لاہور کو فوری تبدیل کیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سی سی پی او لاہور کی تبدیلی سے معذرت کرلی۔جبکہ آئی جی پنجاب نے بھی بات نہ ماننے پر کام کرنے سے انکار کردیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آئی جی پنجاب بغیر شیڈول وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے گئے۔ملاقات میں آئی جی پنجاب نے سی سی پی او کی بغیر مشاورت تعیناتی پر اعتراض کیا ۔ سی سی پی او کی تعیناتی کے بعد آئی جی پنجاب اپنے دفتر نہیں گئے۔ دوسری طرف سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کہا کہ میرا آئی جی سے کوئی اختلاف نہیں۔ آئی جی پنجاب میرے سینئر افسر ہیں۔آئی جی مجھ سے جی پی ایس لوکیشن مانگیں تو ضرور دوں گا۔ میں ان کو بتانے کا پابند ہوں گا کہ میں کہاں کام کررہا ہوں۔واضح رہے آئی جی پنجاب کو سی سی پی او کی تعیناتی پر اعتراض تھا۔ اتنی اہم پوسٹ کے حوالے سے مجھ سے مشاورت نہیں کی گئی۔ جب کہ عمر شیخ نے بھی آئی جی پنجاب کے حوالے سے سخت جملوں کا استعمال کیا اور کہا کہ مجھے آئی جی پنجاب نے نہیں بلکہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے تعینات کیا ہے۔اس پر آئی جی پنجاب سخت برہم ہوئے اور کہا کہ عمر شیخ نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے میں اس شخص کے ساتھ کام نہیں کر سکتا۔لاہور پولیس کے نئے تعینات ہونے والے سی سی پی او محمد عمر شیخ نے چند روز قبل اپنے عہدے کا چارج سنبھالا۔ محمد عمر شیخ کو پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔سی سی پی او لاہور محمد عمر شیخ کا تعلق بیسویں کامن سے ہے۔ عمر شیخ نے ضلع نواب شاہ، جیکب آباد ، لاڑکانہ ، جام شورو سمیت متعدد اضلاع میں بطور ڈی پی او ڈی جی خان میں بطور ریجنل پولیس آفیسر بھی فرائض سرانجام دیے۔ سربراہ لاہور پولیس کا شمار پولیس کے نہایت پروفیشنل، منجھے ہوئے اور تجربہ کار افسروں میں ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں