بریکنگ نیوز : سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا صدر ٹرمپ کو فون ۔۔۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے اپنی شرط رکھ دی

جدہ (ویب ڈیسک) سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کیا کہ سعودی عرب فلسطین کی آزادی اور پرامن حل کے لیے اپنے موقف پر قائم ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ شب سعودی فرماں روا شاہ سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان

ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں سعودی فرماں روا نے امریکا پر فلسطین کا مسئلہ عرب امن اقدام کے تحت حل کرنے پر زور دیا۔سعودی فرماں روا نے امریکی صدر پر واضح کیا کہ فلسطین کا مستقل اور منصفانہ حل چاہتے ہیں اور اس کے لیے عرب امن معاہدے کو بنیاد تصور کرتے ہیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب نے عرب امن معاہدہ 2002ء میں تجویز کیا تھا جس میں اسرائیل کو دوریاستی حل کو تسلیم کرنے اور 1967ء کی عرب اسرائیل لڑائی میں قبضہ کی گئی زمین سے دست بردار ہونے کی صورت میں سفارتی تعلقات کی بحالی کی پیش کش کی گئی تھی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ اگر یورپی یونین کے ساتھ 15 اکتوبر تک کوئی معاہدہ نہیں ہوپاتا ہے تو برطانیہ تجارتی مذاکرات سے الگ ہوجائے گا۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اتوار کے روز یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے لیے 15 اکتوبر کی حتمی تاریخ کا اعلان کردیا ہے۔ اگر مقررہ تاریخ تک دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہتے ہیں تو برطانیہ مابعد بریگزٹ مذاکرات سے الگ ہوجائے گا۔ بورس جانسن نے کہا کہ اگر بریگزٹ کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوتا ہے تب بھی برطانیہ ‘شاندار ترقی‘ کرتا رہے گا۔بورس جانسن کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے، ”اگر معاہدے کو اس سال کے اواخر تک نافذ کرنا ہے تو اس امر کی ضرورت ہے کہ ہمارے یورپی دوستوں کے ساتھ 15 اکتوبر تک معاہدہ ہو جائے۔ اس کے بعد اس معاملے پر غور کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ اگر ہم اس تاریخ تک متفق نہیں ہو پاتے ہیں، تو مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ ہوسکے گا اور ہم دونوں کو اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے

اپنا تبصرہ بھیجیں