رسیدیں مانگنے والا عمران خان اور رسیدیں دینے سے انکاری عاصم سلیم باجوہ ۔۔۔۔ دراصل ہو کیا رہا ہے ؟ مطیع اللہ جان بھی پیچھے نہ رہے ، الزامات کی بوچھاڑ کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے احمد نورانی کی اسٹوری پر ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا مگر پھر ان کے اپنے ہی ضمیر نے مشورہ دیا کہ ذرا وزیر اعظم صاحب کی منظوری بھی لے لی جائے تو کیا ہی بات ہے۔ پھر جب ایسی ہلکی گیند ایک

‘ماہر کپتان‘ کے بلے پر آئی تو چھکے کی صورت اسٹیڈیم کے باہر پہنچ گئی۔نامور کالم نگار مطیع اللہ جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک ایسا چھکا تھا کہ جس پر باؤلر بھی واہ واہ کر اٹھا اور ‘قومی یوتھ اسٹیڈیم‘ بھی تالیوں سے گونج اٹھا۔ ایمپائر بھی دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر خوشی سے جھوم اٹھا۔ قوم کو صرف یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ میچ شروع کب ہوا تھا اور یہ کہ یہ میچ ہے کون سا، ٹی ٹوئنٹی، ون ڈے یا ٹیسٹ میچ؟ جس میچ کا کسی کو پتا ہی نہیں تھا، اس کے چھکے کی خبر ہر جگہ چلی، جس خبر کا تذکرہ ملک کے کسی چینل پر نہ ہوا، اس خبر کی تردید معمول کی نشریات کو روک کر دکھائی گئی۔جنرل عاصم سلیم باجوہ کے لیے بھی ‘سیاسی انجینئیرنگ‘ سے عملی سیاست میں قدم رکھنا ایک نیا تجربہ تھا۔ بطور ڈی جی آئی ایس پی آر، جس نئے پاکستان کی بنیاد انہوں نے ڈی چوک میں رکھی تھی، وہ نیا پاکستان اپنے بانی سے ایسی بے وفائی کیوں کرتا؟ وزیر اعظم عمران خان نے بدعنوانی کے خلاف جس تحریک کا آغاز کیا تھا، اس کا مقصد رسیدیں مانگنا تھا نہ کہ رسیدیں دینا۔ ویسے بھی جو لوگ اپنے سرکاری بجٹ کی رسیدیں دینے سے انکاری ہوں، وہ لوگ امریکا میں اپنے یا خاندان کے کاروبار کی رسیدیں کیوں دیں گے؟ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان بلا قانون ایکسٹینشن دیں گے تو پھر ان کے استعفے کس طرح قبول کریں گے؟

حیرت تو اپوزیشن جماعتوں پر بھی ہوتی ہے۔ فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں پارلیمنٹ کے ‘ولیمہ نما اجلاس‘ کے ذریعے ایکسٹینشن دینے والے اب جنرل عاصم سلیم باجوہ سے استعفی کیوں کر مانگ رہے ہیں؟ مگر اب بات جنرل صاحب کے استعفے سے آگے نکل کر وزیر اعظم صاحب کے اطمینان کے معیار تک چلی گئی ہے۔ وزیر اعظم صاحب کہتے ہیں جنرل باجوہ نے استعفے کے ساتھ اچانک سامنے آنے والے اثاثوں سے متعلق، جو وضاحت دی ہے، وہ اطمینان بخش ہے۔ وہ وزیر دفاع پرویز خٹک کی دفاعی حکمت عملی اور خصوصی معاون جنرل عاصم باجوہ کی اطلاعات و نشریات کی مہارت دونوں سے مطمئن ہیں۔ جنرل عاصم باجوہ کے بطور ڈی جی آئی ایس پی آر تجربے کا فائدہ اتنا ان کے سابق ادارے نے نہیں اٹھایا تھا، جتنا اب وزیراعظم عمران خان اٹھا رہے ہیں۔ نئے پاکستان میں میڈیا کی بے مثال ”آزادی‘‘ کی بنیاد رکھنے والے بھی جنرل عاصم سلیم باجوہ ہی ہیں۔ پانچویں نسل کی انٹرنیٹ وار کو دریافت کر کے نوجوان اذہان کو ”راہ راست‘‘ پر ڈالنے کا عمل بھی انہیں کا شروع کردہ ہے۔ اس ‘ہائبرڈ وار‘ کا سامنا ایک ‘ہائبرڈ جمہوری نظام‘ سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ایسی جمہوریت، جس میں عہدہ سویلین وزیر، مشیر یا معاون کا ہو اور اس کے ہاتھ میں وراثتی چھڑی کسی جرنیل کی ہو۔ خیر ملک کے بڑے بڑے اینکروں کو بھی جنرل عاصم باجوہ کے اثاثوں کی خبر پر بات کرنے کی ہمت نہ پڑی اور سونے پہ سہاگا یہ ہےکہ جنرل صاحب کی وضاحت آئی تو ان اینکروں کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آئی، بریکنگ نیوز ‘نکاح کے چھواروں‘ کی طرح بانٹی گئی۔ اصل الزامات کیا تھے، رپورٹ کیا تھی، بیرون ملک اثاثے کیسے بنے؟ اس پر ملک کا کوئی صحافی رپورٹ نہیں کر سکا۔ سیاستدانوں کی بدعنوانی سے پاک پاکستان کا نعرہ لگانے والے صحافیوں کے قلم بھی اگر خاموش ہو جائیں تو یہ صحافی بھی بددیانتی کا شکار ہو رہے ہیں۔(بشکریہ : ڈوئچے ویلے )

اپنا تبصرہ بھیجیں