پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر جس دھات سے بنایا جاتا ہے اسکی ایک خاص بات کیا ہے ؟ ایسے حقائق جن سے آپ ناواقف ہونگے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر ہے جو دشمن سے چھینے گئے ہتھیاروں کی دھات سے بنایا جاتا ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر شیر خدا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے نام سے منسوب ہے جو پاک سرزمین کے دفاع

میں جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرنے والے فوجی جوانوں کو عطا کیا جاتا ہے۔اب تک بری فوج کے حصے میں 9 اور پاک فضائیہ کے حصے میں ایک نشان حیدر آیا ہے جبکہ آزاد کشمیر کے نائیک سیف علی جنجوعہ کو ہلال کشمیرعطا کیا گیا ہے۔ملکی تاریخ کا پہلا نشان حیدر خطہ پوٹھوہار کے سپوت کیپٹن سرور شہید کوعطا کیا گیا جنہوں نے 27 جولائی 1948 کو دشمن کے عزائم خاک میں ملاتے ہوئے جان جان آفرین کے سپرد کی ۔ سات اگست 1958 کومشرقی پاکستان میں دشمن کو ناکوں چنے چبوانے والے بہادر سپورت میجر طفیل دوسرے نشان حیدر کے حق دار قرار پائے جبکہ 1965 کے پاک بھارت معرکے میں میجر راجہ عزیز بھٹی نے دشمن کے خلاف داد شجاعت دیتے ہوئے وطن پر جان قربان کی جس کے اعتراف میں انہیں نشان حیدر عطا کیا گیا۔دشمن کے منصوبے کو خاک میں ملا کر اپنے وطن کی آن اور شان پر جان وار دینے والے پاک فضائیہ کے نوجوان پائلٹ آفیسر راشد منہاس کو بھی نشان حیدر سے نوازا گیا ہے۔بری فوج کے میجر شبیر شریف، سوار محمد حسین ، میجر محمد اکرم اور لانس نائیک محمد محفوظ نے بہادری کی داستانیں رقم کیں اور نشان حیدرسے سرفراز ہوئے۔1999میں کارگل کی لڑائی میں بہادری کے جوہر دکھانے والے قوم کے 2 سپوتوں شہید کیپٹن شیر خان اور حوالدار لالک جان کو بھی نشان حیدر سے نوازا گیا۔ اس فہرست میں ایک اور نام نائیک سیف علی جنجوعہ کا بھی ہے جنہیں 1947 میں ہلال کشمیر سے نوازا گیا تھا۔ آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے دیا جانے والا یہ اعزاز نشان حیدر کے برابر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں